کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 71

بادشاہوں کے تقرب کو سعادت سمجھتے رہے اور اس مقصد کے لئے اس حد تک ذلت پر اتر آتے کہ اپنے دین و ایمان کا سودا کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ علماء یہود اس فن میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ وہ چند سکوں کی خاطر اپنے علم اور دین داری کا غلط استعمال کرتے تھے اور اللہ کی کتاب میں حقیر سی پونجی کے لئے تحریف و ترمیم کر ڈالتے تھے، مسلمانوں کے اندر ایسا تو کوئی گروہ پیدا نہیں ہوا جو اس ذلیل منفعت کے لئے قرآن کریم میں تحریف و ترمیم کرتا مگر ایسے لوگ ضرور پیدا ہو گئے جو اس مقصد کے لئے حدیث وضع کرتے تھے اور امراء سے نذرانۂ کذب کے امیدوار رہتے تھے یہ امراء کبھی تو ایسے لوگوں کی تنبیہہ کرتے اور کبھی مجرمانہ چشم پوشی سے کام لیتے تھے۔ غیاث بن ابراہیم ان چند مجرموں میں سے ایک تھا جو یہ گھناؤنا پیشہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ ایک مرتبہ غیاث ، عباسی خلیفہ مہدی کے دربار میں حاضر ہوا اس وقت مہدی کبوتر سے کھیل کر رہاتھا، اس نے خلیفہ سے کہا کہ اے امیر المؤمنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : لا سبق الا في نصل او خف او حافرا و جناح ’’مسابقت صرف نیزہ بازی میں یااونٹ میں گھوڑے میں یا پرندہ میں ہے‘‘۔ حدیث میں جناح کا تذکرہ نہیں ہے مگر چونکہ مہدی کبوتر سے کھیل رہا تھا اس لئے غیاث نے ’’جناح‘‘ کا اضافہ کر دیا۔ یہ سن کر مہدی نے اسے انعام دینے کا حکم دیا، جب وہ انعام لے کر رخصت ہو گیا تو مہدی نے کہاکہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا، پھراس نے کبوتر کو ذبح کرا دیا کہ اسی کی وجہ سے اس نے حدیث وضع کی تھی۔ احمد بن یعقوب ، عبدالملک کے پاس کھانے کے موقع پر حاضر تھا، جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو خربوزہ لایا گیا، اس پر احمد نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : بطيخ قبل الطعام يغسل البطن غسلا ويذهب الداء اصلا ’’کھانے سے پہلے خربوزہ کھانا پیٹ کو صاف کر دیتا ہے اور بیماری بالکل ختم کر دیتا ہے‘‘۔ اس پر عبدالملک نے اسے ایک لاکھ درہم دینے کاحکم دیا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب