کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 74

متقی اور گوشہ نشین سمجھا جاتا تھا، اپنی ظاہری شکل و صورت اور دینداری کی وجہ سے عوام میں اس قدر مقبول تھا کہ جب اس کی وفات ہوئی تو اس کے غم میں اہلِ عراق نے اوراد و وظائف کے فضائل میں بہت سی روایات وضع کیں۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ یہ احادیث جو آپ بیان کرتے ہیں کیا ’’رقائق‘‘ سے متعلق ہیں تو اس نے جواب دیا کہ میں نے ان کو اس لئے وضع کیاہے تاکہ لوگوں کے دل رقیق (نرم) ہو سکیں۔ واعظین اور قصہ گو حضرات نے اس قسم کی جعلی روایات کی اشاعت میں بڑاحصہ لیا۔ واعظین اور قصہ گو حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے موضوع احادیث اس لئے بیان کرتے تھے کہ وہ لوگوں کی توجہ اور دلچسپیاں اپنی طرف موڑ سکیں اور ان کو اپنے دامِ فریب میں الجھائے رکھیں، چونکہ وعظ و قصہ گوئی کی مجالس عوام کے لئے پرکشش ہوتی ہیں اس لئے یہ حضرات اس نفسیاتی کمزوری کا استعمال موضوع احادیث کی ترویج و اشاعت کے لئے کرتے تھے اور مجلس کو گرمانے کے لئے ایک سے ایک نکتے بیان کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے ساتھ ایسے ہی واعظ کاایک عبرتناک واقعہ پیش آیا۔ یہ دونوں بزرگ محدثین ایک مرتبہ مسجد رصافہ میں نماز ادا کرنے گئے تو دیکھا کہ واعظ کھڑا ہوا اس طرح حدیث بیان کرنے لگا "حدثنا احد بن حنبل ويحي بن معين قال حدثنا عبدالرزاق عن قتادة عن انس قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم من قال لا اله الا الله خلق الله من كل كلمة طيرا فنقاره منذهب وريشه من مرجان" ’’مجھ سے احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے روایت کی اور کہا ہم عبدالرزاق نے قتادہ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا تو اللہ اس کے ہر کلمہ سے چڑیا پیدا کرے گا جس کی چونچ سونے کی اور بال و پر مرجان کے ہوں گے‘‘ ۔ اور اس طرح اس واعظ نے بیس اوراق بیان کر دئیے۔ نوبت یہ تھی کہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو اور وہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے

  • فونٹ سائز:

    ب ب