کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 75

احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ نے یہ حدیث بیان کی؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم! آج سے پہلے تو میں نے یہ حدیث سنی بھی نہ تھی۔ جب واعظ اپنا وعظ ختم کر چکا تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اس کو بلایا او رکہا کہ میں یحییٰ بن معین ہوں اور یہ احمد بن حنبل ہیں۔ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث تو کبھی نہیں سنی اگر تمہارے لئے ایسا کرنا ضروری تھا تو تم کسی اور کی طرف منسوب کر دیتے۔ اس پر واعظ بولا کہ میں اکثر سنتا تھا کہ یحییٰ بن معین احمق ہے مگر اب یقین ہو گیا۔ انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو واعظ بولا کیا دنیا میں تم دونوں کے علاوہ یحییٰ بن معین اور احمد بن حنبل نہیں ہیں؟ میں نے تو سترہ یحییٰ اور احمد سے روایت کی ہے۔ اسی طرح کا ایک دلچسپ واقعہ سلیمان بن مہران الاعمش کے ساتھ پیش آیا جب وہ بصرہ گئے تو ایک قصہ گو کومسجد میں وعظ کرتے دیکھا وہ اس طرح حدیث بیان کر رہا تھا۔ "حدثنا الاعمش عن ابي اسحاق عن ابي وائل "’’مجھ سے اعمش نے بیان کیا اور اس سے ابو اسحاق نے ابووائل کے واسطے سے‘‘ یہ سن کر اعمش بیچ میں آگئے اور بغل کا بال اکھاڑنے لگے، اس پر قصہ گو برافروختہ ہوا اور بولا اے شیخ! تجھے شرم نہیں آتی کہ میں تعلیم حدیث میں مشغول ہوں اور تو یہ نازیبا حرکت کررہا ہے۔ اعمش نے جواب دیا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ تمہارے عمل سے اچھا ہے۔ اس نے پوچھا وہ کیسے؟ اعمش بولے اس لئے کہ میں سنت پر عمل کر رہا ہوں اور تم جھوٹ بول رہے ہو، اعمش تو میں ہوں اور میں نے کبھی تم سے کوئی روایت نہیں کی ہے‘‘۔ اس قسم کی موضوع روایات فضائل کی کتابوں میں بکثرت موجود ہیں جن میں ترغیب و ترہیب کے نام پر رطب ویابس کو جمع کر دیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ دین کی بڑی خدمت ہو رہی ہے۔ زہد اور تصوف: وضع حدیث میں قابلِ ذکر حصہ کم عم زاہدوں اور جاہل صوفیوں کا رہا ہے ان حضرات نے بغیر تمیز کے جھوٹی سچی روایات کو رواج دیا، عام لوگوں نے ان کی صورت وسیرت اور ظاہری دین داری کو دیکھ کر ان کی روایت کردہ احادیث پر اعتماد کر لیا اورکسی قسم کے شک و شبہ اور نقد و تبصرہ کو مناسب نہ سمجھا۔ اس طرح ذخیرہ احادیث میں غیر معتبر روایات کا بڑا حصہ ان جاہلوں کے ذریعہ در آیا، چنانچہ محدثین نے ان کوحدیث کے معاملہ میں غیر محتاط قرار دے کر ان کی روایت کو ساقط الاعتبار بنا دیا۔ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں کہ میں ایک لاکھ دینار کی امانت کے لئے جس آدمی کو صحیح سمجھتا ہوں ایک حدیث کے لئے اسے امین نہیں سمجھتا۔ربیعہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہمارے بہت سے بھائی وہ ہیں جن کی دعاؤں کی برکت کے ہم امیدوار ہیں لیکن اگر وہ کسی معاملہ میں شہادت دیں توہم ان کو شہادت قبول نہ کریں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ’’میں نے ان ستونوں کے نزدیک ستر راویوں کو پایا مگر ان سے حدیث نہیں لی اگرچہ ان کو بیت المال کاامین بنا دیا جاتا تو وہ امانتدار ثابت ہوتے مگر وہ اس عظیم کام کے اہل نہ تھے۔اسی لئے امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: الواضعون اقسام اعظمهم ضررا قوم ينسبون الى الزهد وضعوه حسبة’’واضعین حدیث کی مختلف قسمیں ہیں مگر ان میں سب سے بڑے نقصان پہنچانے والے وہ لوگ ہیں جن کو زاہد سمجھا جاتا ہے جوآخرت کی نیت سے حدیث وضع کرتے ہیں‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب