کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 77
کتاب احیاء علوم الدین زہد و تصوف اور دین کی معرکہ آرا کتاب ہے مگر اس کا حال بھی قابلِ اصلاح ہے۔ علامہ سبکی رحمہ اللہ م ۷۷۱؁ھ نے طبقات الشافعیہ میں امام غزالی کی بے سند احادیث پر مستقل ا یک باب باندھا ہے جو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔اسی طرح شیخ نظام الدین اولیائ رحمہ اللہ کے مجموعۂ ملفوظات، فوائد الفواد، مرتبہ امیر حسن علا سنجری اور افضل الفواد مرتبہ امیر خسرو کا حال بھی یہی ہے۔ دوسری طرف نظامِ تصوف کے پائے چوبیں کے استحکام اور مراسم تصوف کی ترویج کے لئے جاہل صوفیوں نے حدیث وضع کرنے کا سلسلہ شروع کیا، کبھی بزرکوں اور مشائخ کے اقوال کو حدیث بنا کر پیش کر دیا اور کبھی تازہ حدیث وضع کر کے بیان کر دیا۔ چنانچہ ذیل کی چند احادیث سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ "کن ذنبا ولا تکن راسا فان الراس یہلک والذنب یسلم " ’’دُم کی طرح رہو سر کی طرح نہ رہو کیونکہ سر ہلاک ہو جاتا ہے اور دُم محفوظ رہتی ہے‘‘۔ الجلوس مع الفقراء بالتواضع ہو افضل الجہاد ’’فقراء کے ساتھ عاجزی اختیار کرتے ہوئے بیٹھنا افضل جہاد ہے‘‘۔ بجلو المشائخ فان تبجیل المشائخ من تبجیل اللہ ’’مشائخ کی تعظیم کرو کیونکہ مشائخ کی تعظیم اللہ کی تعظیم ہے‘‘ من سرہ ان یجلس مع اللہ فلیجلس مع اہل التصوف’’جو اللہ کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتا ہے وہ اہل تصوف کے ساتھ بیٹھے‘‘۔ السلامة فی العزلة ’’عافیت گوشہ نشینی میں ہے‘‘۔ لا تطعنوا علی اہل التصوف والخرق’’اہلِ تصوف اور اہلِ خرقہ پر طعن نہ کرو‘‘۔ الابدال فی ہذہ الامة ثلثون مثل ابراہیم خلیل اللہ’’ابراہیم خلیل اللہ کی طرح اس امت میں تیس ابدال ہیں‘‘۔ علامہ سخاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: الابدال لہ طرق عن انس مرفوعا بالفاظ مختلفة کلہا ضعیفة ’’ابدال کے بارے میں انس بن مالک رحمہ اللہ سے مختلف طریقوں اور مختلف الفاظ کے ساتھ بہت سی روایتیں ہیں سب ضعیف ہیں‘‘۔ لیس الخرقة الصوفیة وکون الحسن البصری البسہا من علی ’’رقہ صوفیا کا پہنانا اور یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حسن بصری رحمہ اللہ کوپہنایا تھا غلط ہے‘‘۔