کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 78
خرقہ صوفیا سے متعلق تمام روایت موضوع ہیں۔ علامہ سخاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "انہ لیس فی شیء من طرقہا ما یثبت ولم یرو فی خبر صحیح ولا حسن ولا ضعیف ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم البس الخرقة علی الصور المتعارفة بین الصوفیة لاحد من اصحابہ ولا امر احدا من اصحابہ ان یفعل ذالک وکل ما یرو فی ذالک صریحا فباطل "  ’’کسی طریقہ سے بھی یہ ثابت نہیں ہے اور نہ کسی صحیح، حسن اور ضعیف روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوفیا کے درمیان معروف طریقہ پر کسی صحابہ کو خرقہ پہنایا ہو اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو ایسا کرنے کا حکم دیا، جوکچھ اس ضمن میں احادیث بیان کی جاتی ہیں سب باطل ہیں‘‘۔ اسی طرح رجال الغیب کا تصوّر، اوتاد، نجبا، نقبا، غوث اور قطب وغیرہ کی ساری روایات ساقط الاعتبار ہیں، اسی طرح اویس قرنی رحمہ اللہ کی فضیلت کے سلسلے کی روایت بھی ساقط الاعتبار ہیں۔ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: احادیث الابدال والاقطاب والاغواث والنقباء والنجباء والاوتاد کلہا باطلة ’’ابدال، قطب، غوث، نقبائ، نجبا اور اوتاد سے متعلق روایات باطل ہیں‘‘۔ حضر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس فقراء ورقص حتی شق قمیصہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم فقراء کی مجلس میں تشریف لائے اور رقص کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص پھاڑ لی‘‘۔