کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 79

یہ روایت کسی ملحد وزندیق کی گھڑی ہوئی ہے یہ نہ صرف شانِ نبوت کے منافی ہے بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کے منافی ہے۔ اس سلسلے کی مزید روایات موضوعات کے ضمن میں بیان کی جائیں گی۔ شہرت اورمقبولیت : شہرت و مقبولیت اور نام و نمود کا حصول بھی وضع حدیث کاایک بڑا سبب تھا۔ یہ واقعہ ہے کہ ایک زمانہ میں محدث کی بڑی شان ہوا کرتی تھی اور حدیث کی رویات کرنا بڑی عزت اور مرتبہ کا کام سمجھا جاتا تھا، راویوں کی جوقدر اور عزت افزائی ہوتی تھی وہ دوسروں کو ہرگز نصیب نہ تھی، اور ایسے حضرات تو مرجع خلائق تھے جن کے متعلق یہ مشہور ہوتاکہ ان کی سند عالی ہے۔ چنانچہ ایسے محدثین کے پاس طالبینِ حدیث کااژدہام ہوتا اور شائقین دُور دراز کے علاقوں سے لمبا لمبا راستہ طے کر کے ا ن کے پاس حاضر ہوتے اور حدیث کا درس لیتے، اس معاملہ میں ان کو جتنی مصیبت اور مشقت کا سامنا کرنا پڑتا وہسب گوارا کرتے۔ ان محدثین کی عزت اور فضیلت صرف ان کے شاگردوں تک محدود نہ ہوتی بلکہ عوام و خواص، امیر و غریب، عالم و جاہل سب ان کا یکساں احترام کرتے، ظاہر ہے کہ اس میں جو کشش ہے وہ دوسری کسی چیز میں نہیں ہو سکتی اس لئے بہت سے وہ لوگ جو سستی شہرت کے خواہاںہوتے اور نام و نمود کی لالچ ان کو بے چین رکھتی وہ حدیث کی روایت کرنے لگتے اور جھوٹی روایت ثقہ راویوں کی سند میں ملا کر بیان کرتے تاکہ وہ سچے محدثین کرام کی طرح عوامی مرجعیت کاحق دار سمجھے جائیں۔ ایک بظاہر دین دار بزرگ نے اپنی شہرت کا یہی نسخہ آزمایا تھا اور اس طرح کی چودہ موضوع روایات کے ذریعہ اپنی دوکان شہرت جما رکھی تھی، کچھ دنوں کے بعد انہوں نے ایک اور حدیث وضع کر لی اور اب ان کا سرمایہ پندرہ روایات پر مشتمل تھا۔ کسی نے اس سے دریافت کیا کہ جناب کو گھر بیٹھے یہ روایت کہاں سے ہاتھ آگئی تو مچل کر فرمانے لگے "من رزق الله عزوجل" ’’یہ تو رزقِ خداوندی ہے‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب