کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 80

واعظین اور قصہ گو حضرات کو بھی زیادہ تر نام و نمود ہی کا جذبہ حدیث وضع کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ ظاہر ہے کہ جس علم کی اتنی فضیلت ہو اور اس کے حاملین کی اس قدر عزت افزائی ہو توسستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اہلِ ہوس کو اس سے زیادہ آسان اور کونسا راستہ دکھائی دے گا کہ وہ محدث نہ سہی تو محدث کی ہئیت ہی اختیار کر لیں۔ میسرہ بن عبدربہ اسی طرح کا ایک فتنہ گر تھا، اس کی شہرت اور مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جب وہ مر گیا تو اہلِ بغداد نے اس کے سوگ میں بازار بند کر دئیے مگر حدیث وضع کرنے میں بیباک تھا۔ عجوبہ پسندی : بعد میں کچھ لوگ ایسے بھی پیدا ہوئے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے عجیب و غریب قسم کے واقعات اور حکایات بیان کرنے میں لطف آتا تھا، وہ انتہائی قسم کی چونکا دینے والی حدیثیں وضع کرتے تھے اور حدیث بنا کر لوگوں کو سناتے تھے۔ اس سے اس کا مقصد صرف لوگوں کو حیرت واستعاب میں ڈالنا، محفل کو گرم کرنا، لوگوں میں سنسنی پیدا کرنا اور ان کی نظروں میں جچ جانا تھا۔ جس طرح ہمارے زمانے میں بعض لوگ محیر العقول واقعات، پریوں کے قصے، عجیب و غریب لطیفے، ناقابلِ یقین اقعات بیان کر کے لوگوں کو حیرت میں ڈالا کرتے ہیں۔ اسی طرح پچھلے زمانے میں بھی یہ حرکت ہوتی تھی اور بہت سے ناہنجار حدیث کے نام پر سب کچھ کرتے ت ھے بلکہ آج بھی کرتے ہیں۔ ایسے غرائب کو حدیث بنا کر پیش کرنے میں یہ نفسیات کام کرتی ہے کہ لوگ اسے زیادہ دلچسپی سے سنیں گے، دینی وابستگی اور والہانہ شوق کا مظاہرہ کریں گے اور راوی کی حیثیت چٹکلہ باز اور بھانڈ کی نہیں محترم حدیث کی ہو گی۔ اس قسم کے واضعین میں ابوعلی موسیٰ بن رضا، عباس بن ولید، علی بن علی اللہبی اور قاسم بن بہرام بہت مشہور ہوئے ان کی لغویات کے کچھ نمونے یہ ہیں: ان الله ديكا عنقه تحت العرش ورجلاه في تخوم الارض ’’اللہ ایک مرغا ہے جس کی گردن عرش کے نیچے اور پاؤں زمین کی تہوں میں ہیں‘‘۔ والذي بعثني بالحق لو يعلم بنو آدم ما في صوته لا شتروا ريشه ولحمه بالذهب والفضة ’’قسم اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر بنو آدم کو معلوم ہو جائے کہ مرغ کی بانگ میں کیا معنویت ہے تو ضرور وہ اس کا گوشت اور بال و پر سونا چاندی کے بدلے خریدیں‘‘۔ لما تجلى الله تعالى للجبل طارت لعظمة ستة اجبل وقعت ثلثة بمكة وثلثة بالمدينة ’’جب اللہ نے پہاڑ پر اپنا جلوہ کیا تو اس کی عظمت کی وجہ سے وہ چھ پہاڑوں میں بٹ گیا، تین تومکہ میں گرے ا ور تین مدینہ میں‘‘۔ خلق الورد الاحمر من عرق جبريل ليلة المعراج وخلق الورد الابيض من عرقي وخلق الورد الاصفر من عرق البراق’’معراج کی رات جبریل کے پسینہ سے سرخ گلاب پیدا ہوا، میرے پسینہ سے سفید گلاب اور براق کے پسینہ سے زرد گلاب پیداہوا‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب