کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 82
جب باغ والا پھل توڑنے آیا تو اس نے ان کے نقوشِ پا دیکھے اور ان کو تلاش کرنے لگا۔ جب کوئی ہاتھ آجاتا اسے اپنے دامن میں پھل کے ساتھ رکھ لیتا یہاں تک کہ بارہ کے بارہ کو اس نے اٹھا کر رکھ لیا اور اپنے سردار کے پاس جا کر دامن کو پھیلا دیا۔ قرآن کی تلاوت اور تفسیر: وضع حدیث کے بعض محرکات نیک تھے مگر یہ نیک محرکات ایک غلط کام کے لئے تھے ان نیک محرکات میں قرآن کی تلاوت اور تفسیر بھی ہے، لوگوں میں قرآن کی تلاوت کا ذوق پیداکرنے کے لئے آیات اور سورتوں کی فضیلت میں لوگوں نے حدیثیں وضع کیں اور بہت سے مفسرین نے بغیر تحقیق کے اپنی تفاسیر میں ان کو شامل کر لیا۔ اس طرح قرآن کی فضیلت اور تفسیر کے ذیل میں بہت سی موضوع روایات رائج ہو گئیں۔ تفسیر کی کتابوں کامطالعہ کیجئے تو ہر سورہ کے فضیلت میں جو بے شمار احادیث ملتی ہیں ان میں سے اکثر بے بنیاد ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وفی التفسیر من ہذہ الموضوعات قطعة کبیرة مثل الحدیث الذی یرویہ الثعلبی والواحدی والزمخشری فی فضائل سور القرآن سورة سورة فانہ موضوع باتفاق اہل العلم’’تفسیر قرآن میں ان موضوعات کابڑا حصہ شامل ہے۔ مثلاً قرآن کریم کی الگ الگ سورتوں کی فضیلت کے بارے میں جو روایات زمخشری، واحدی اور ثعلبی بیان کرتے ہیں وہ اہلِ علم کے نزدیک متفقہ طور پر موضوع ہیں‘‘۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: اما الحدیث الطویل فی فضائل القرآن سورة سورة فانہ موضوع ’’وہ طویل حدیث جو قرآن کی الگ الگ سورتوں کی فضیلت میں بیان کی جاتی ہے وہ موضوع ہے‘‘۔