کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 83

ابن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے بیان کی گئی وہ احادیث جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے فلاں فلاں سورۃ پڑھی اس کے لئے یہ اور وہ اجر ہے کے بارے میں عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ’’ان کو زندیقوں نے وضع کیاہے ‘‘۔ نوح بن مریم اسی طبقہ کا ایک نمائندہ تھا جس نے فضائل قرآن میں حدیثیں وضع کیں، جب اس کی یہ حرکت پکڑی گئی تو معذرت کرتے ہوئے کہا کہ : ’’میں نے دیکھا کہ لوگ قرآن سے دُور ہوتے جا رہے ہیں اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے فقہ اورابنِ اسحق کی مغازی میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں تو میں قرآن کی سورتوں کی فضیلت میں حدیثیں وضع کرنے لگا‘‘۔ مومل بن اسماعیل کا بیان ہے کہ کہ مجھ سے ایک شخص نے قرآنی سورتوں کے فضائل کے بارے میں ابی بن کعب کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی اور کہاکہ مجھ سے مدائن کے ایک آدمی نے بیان کیا اور وہ ابھی زندہ ہے تومیں مدائن کی طرف چل پڑا اور جا کر اس سے پوچھا تم سے کس نے یہ حدیث بیان کی؟ اس نے کہا واسط کے ایک شیخ نے ا ور وہ ابھی زندہ ہے تو میں واسط پہنچا اور اس شخص سے پوچھا تم سے یہ حدیث کس نے بیان کی تو اس نے جواب دیا عبادان کے ایک شیخ نے، چنانچہ میں عبادان پہنچااور اس شیخ سے ملا اور پوچھا تم سے کس نے یہ حدیث بیان کی؟ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک گھر میں لے گیا وہاں صوفیوں کی ایک جماعت تھی اور ان کے درمیان ایک شیخ بیٹھا تھا۔ اس نے اس شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسی نے جب میں نے اس سے پوچھا یہ حدیث کس نے تم سے بیان کی وہ بولا کسی نے نہیں لیکن جب میں نے دیکھا کہ لوگ قرآن سے دُور ہو گئے ہیں تو میں نے خود یہ حدیث وضع کی تاکہ لوگوں کے دل قرآن کی طرف مائل ہوں۔ اس طرح کی چند موضوع روایات یہ ہیں: من تعلم القرآن وحفظه ادخله الله الجنة وشفعه في عشرة من اهل بيته كل قد استوجب النار ’’جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کیا اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے خاندان کے دس جہنمی لوگوں کے سلسلے میں اس کی سفارش قبول کرے گا‘‘۔ ان لكل شئ قلب وقلب القرآن يسين من قرأها فكانما قرأ القرآن عشر مرات ’’ہر چیز کا دل ہوتاہے اور قرآن کا دل سورۃ یٰسین ہے جس نے یٰسین پڑھا تو اس نے دس مرتبہ قرآن پڑھا‘‘۔ "لكل قوم هاد " انه على ’’ہر قوم کے لئے رہنما آئے‘‘ اس سے مراد علی ہیں‘‘۔ وَاِذَا لَقُوْا الَّذِيْنَ اَمَنُوْا قَالُوْا اَمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا اِلَى شَيَاطِيْنِهِمْ قَالُوْا اِنَّا مَعَكُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَحْزِؤُنَ (بقرة : 14) اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ ایک دن نکلا تو صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے اس کی ملاقات ہوئی تو ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھنا آج میں کس طرح ان بے وقوفوں کو تم سے ٹالتا ہوں پھراس نے سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ مرحبا اے ابو بکر صدیق! بنی تمیم کے سردار اور غارِ ثور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی۔ پھر اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کاہاتھ پکڑا اور کہا مرحبا اے فاروق! پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہم کا ہاتھ پکڑ ااور بولا مرحبا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بنی ہاشم کے سردار! اس کے بعد سب لوگ چلے گئے تو اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھا کس طرح میں نے ان کو بے وقوف بنایا، جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو اسی طرح کرنا۔ اس کی روایت سدی کلبی سے کرتے ہیں اور کلبی ابو صالح سے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے حوالہ سے کرتے ہیںـ ابن حجر رحمہ اللہ نے کشاف کی احادیث کی تخریج کرتے ہ وئے کہا کہ یہ سلسلۃ الذہب

  • فونٹ سائز:

    ب ب