کتاب: فتنہ وضع حدیث اور موضوع احادیث کی پہچان - صفحہ 86

ہوتا ہے‘‘اس سے مقصد ثابت کی عبادت اور دینداری کا اعتراف تھا۔ ثابت نے یہ سمجھا کہ جو سند ابھی املاء کرائی گئی ہے اس کی حدیث (متن) یہی ہے، پھر انہوں نے حدیث کی طرح اسے روایت کرنا شروع کر دیا اور ابن ماجہ نے اسے یوں نقل کیا: عن الاعيل الطلحي عن ثابت بن موسى العابد الزاهد عن شريك عن الاعمش عن ابي سفيان عن جابر مرفوعا من كثرت صلاته بالليل حسن وجهه بالنهار موضوعات کی اشاعت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ بعض اوقات راوی ضعفاء اور کذابوں سے روایت کرتا مگر ان کا نام سند سے حذف کر کے سلسلہ اوپر سے جوڑ دیتا۔ مثلاً ا براہیم بن ہدبہ اپنے شیخ کے واسطے سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا تھا اور اس کا شیخ کبھی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے براہِ راست روایت کرتا تھا اور کبھی شریک کے واسطے سے۔ ایک مرتبہ وہ براہِ راست سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہا تھا تو کسی نے کہا شاید یہ روایت تم نے شریک سے لی ہے تو اس نے جواب دیا میں تم سے سچ سچ بتا دیتا ہوں۔ سمعت هذا عن انس بن مالك عن شريك ’’میں نے یہ حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے شریک سے‘‘۔ گویا اس نے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے دوسرے جھوٹ کا ارتکاب کیا اور صحابی کی روایت تابعی سے ثابت کر دی۔ ابن صلاح کہتے ہیں: ومنهم من لا يضع متن الحديث ولكن ربما وضع للمتن الضعيف اسنادا صحيحا مشهورًا ’’ان واضعین میں کچھ لوگ ایسے تھے جو حدیث وضع نہیں کرتے تھے مگر کمزور حدیث کے لئے صحیح اورمشہور سند وضع کرتے تھے‘‘۔ اس ضمن میں یہ بھی ہوتا کہ جھوٹا راوی موضوع حدیث ک و ثقہ راویوں کی حدیث میں داخل کر دیتا پھر وہ حدیث ثقہ راوی کی حدیث سمجھ کر روایت کی جاتی۔ مثلاً معمر کا ایک بھتیجا رافضی تھا۔ اس نے معمر کے نسخہ میں زہری، عبید اللہ اور عبداللہ بن

  • فونٹ سائز:

    ب ب