کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 100

اب مقرر صاحب بتلائیں کہ امیر عثمان رضی اللہ عنہ تو ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو کہہ رہے ہیں جس کا معنی یہ کہ انہیں کافر نہیں سمجھتے تھے اس واقع سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی استقامت ، ضبط خلافت اور اپنی صفائی کے لئے شہادت نبوی پیش کررہے ہیں جبکہ مقرر صاحب اس واقعے کو نبوت کے لئے گواہ بنا رہے ہیں علاوہ ازیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو استدلالاً پیش کرنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ گواہ نہیں ہیں بلکہ اپنے لئے گواہی طلب کررہے ہیں الغرض مقرر صاحب کا بنایاہوا یہ گواہ بھی قائم نہ رہا۔ قال: چوتھا گواہ’’تَرَاهُمْ رُکَّعاً سُجَّداً‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی عبادتیں ریاضتیں اور محنتیں مشہور ہیں (ص59) اقول:تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عبادتیں ، ریاضتیں اور محنتیں مشہور ہیں قرآن کریم تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے لئے کہہ رہا ہے’تَرَاهُمْ رُکَّعاً سُجَّداً‘‘ صیغہ جمع ہے اور یہ کونسی معرفت ہے کہ امتی کی عبادت سے رسالت کی صداقت ہورہی ہے ؟۔بلکہ ہر امتی کی ہمہ اقسام کی عبادت کے لئے تائید نبوی اور ثبوت الہی کاہونا لازمی امر ہے وگرنہ بصورت دیگر وہ عبادت ’’احداث فی الدین‘‘ ہونے کی وجہ سے بدعت کہلائے گی کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی عبادت رسالت کے لئے گواہی نہیں بن سکتی تو پھر دوسروں کی عبادت کیا حیثیت رکھتی ہے؟ایسا عقیدہ کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نمازکہاں سے سیکھی ؟جواب یہی ملے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بنابریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل علی رضی اللہ عنہ کے عمل کی تصحیح اور قابل اعتبار ہونے کے لئے گواہ بنا نہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گواہ ہے لہذا یہ بھی قائم نہ رہا۔ قارئین :انصاف کریں کہ مقرر صاحب نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے ہجرت کا

  • فونٹ سائز:

    ب ب