کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 105

این کتاب از آسمان دیگر است ہمیشہ سچے واقعے ہی بیان کرنے چاہیئں مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتھر سے مخاطب ہونا اور پتھر کا آپ کو سلام کرنا۔ کھجور کے تنے کا رونا وغیرہ۔ یہ واقعات انسانی رہنمائی کیلئے کافی ہیں۔ قال : یہ قرآن کتاب حکمت ہے جو اس کے مطابق چلے گا وہ سیدھے راستے پر گامزن ہوگا اور اس راستے میں آرام ہے ، رحمت ہے، ان لوگوں نے اللہ کو حاضر و ناظر مانا(ص64) الرحمن علی العرش استوی الرحمن علی العرش استوی ثم استوی علی العرش (الاعراف:54یونس:4الرعد:2الفرقان:59الم السجدہ:11الحدید:4) اور الحاضر کے معنی ہیں ’’یہاں موجود ‘‘ اور یہ معنی متعدد قرآنی آیات میں استعمال ہوا ہے ملاحظہ ہو۔ ووجدوا ما عملوا حاضرا اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ فلما حضروه قالوا انصتوا تو جب وہ (پیغمبر علیہ السلام ) کے پاس آئے تو (آپس میں )کہنے لگے کہ خاموش ہوجاؤ۔ فوربك لنحشرنهم والشیطین ثم لنحضرنهم حول جهنم جثیا

  • فونٹ سائز:

    ب ب