کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 106

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے اور وہ گھٹنوں کے بل گر رہے ہوں گے۔ ۭوَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ  اور بخل ہر نفس میں موجود ہے۔ وَاِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْـضَرُوْنَ 32؀ۧ  اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے۔ وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ 75؀  اور وہ ان کی فوج ہوکر حاضر کئے جائیں گے۔ تو ان قرآنی نصوص کے مطابق حاضر کا معنی ہوا(یہاں ہمارے پاس موجود) ایسا عقیدہ اہل سنت کا نہیں ہے بلکہ صوفیوں کا ہے جیسا کہ کتاب کے شروع میں سید عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے نقل کیا گیا تھا۔ ہم اپنے رب کو کیسے پہچانیں؟فرمایا (اس طرح پہچانو کہ )وہ ساتوں آسمانوں کے اورپر عرش پر ہے اور مخلوق سے الگ ہے۔ کیف نعرف ربنا؟قال بانه فوق السماء السابعة علی العرش بائن من خلقه ہم اپنے رب کو کیسے پہچانیں؟فرمایا (اس طرح پہچانو کہ )وہ ساتوں آسمانوں کے اورپر عرش پر ہے اور مخلوق سے الگ ہے۔ کیف نعرف ربنا؟قال بانه فوق السماء السابعة علی العرش بائن من خلقه ہم اپنے رب کو کیسے پہچانیں؟فرمایا (اس طرح پہچانو کہ )وہ ساتوں آسمانوں کے اورپر عرش پر ہے اور مخلوق سے الگ ہے۔ اللہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ عرش پر ہے ایمان کاجز بلکہ مومن ہونے کیلئے شرط ہے: قال حدثنا الحسن بن الصالح البزار ثنا علی بن الحسن بن شفیق عن المبارك الخ اللہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ عرش پر ہے ایمان کاجز بلکہ مومن ہونے کیلئے شرط ہے: قال حدثنا الحسن بن الصالح البزار ثنا علی بن الحسن بن شفیق عن المبارك الخ مشکوۃ باب اول فی کون الرقبۃ فی الکفارۃ مؤمنۃ کتاب النکاح میں حدیث ہے: مشکوۃ باب اول فی کون الرقبۃ فی الکفارۃ مؤمنۃ کتاب النکاح میں حدیث ہے: سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری لونڈی میرا ریوڑ چراتی تھی جب میں اس کے پاس گیا تو میں نے ریوڑ میں سے ایک بکری گم پائی تو میں نے اسکے منہ پر ایک طمانچہ رسید کر دیا اب مجھ پر غلام آزاد کرنا واجب ہے تو کیا میں اسے آزاد کردوں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا اللہ کہاں ہے ؟اس نے کہا آسمان میں ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کون ہوں؟اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزا د کردو یہ تو مومنہ ہے۔ عن معاویة بن السلمی قال اتیت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقلت یارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ان جاریة کانت لی ترعی غنما لی فجئتها و قد فقدت شاة من الغنم فسالتها عنها فقالت اکلها الذئب فاسفت و کنت من بنی آدم فلطمت وجهها و علی رقبة افاعتقها فقال لها رسول الله این الله؟فقالت فی السماء فقال من انا؟فقالت انت رسول الله! فقال اعتقهارواه مالك و فی راویة مسلم فذکر الحدیث و فیه قال اعتقها فانها مؤمنة (باب ما یجوز من العتق فی الرقاب الواجبة مؤطا امام مالك) سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری لونڈی میرا ریوڑ چراتی تھی جب میں اس کے پاس گیا تو میں نے ریوڑ میں سے ایک بکری گم پائی تو میں نے اسکے منہ پر ایک طمانچہ رسید کر دیا اب مجھ پر غلام آزاد کرنا واجب ہے تو کیا میں اسے آزاد کردوں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا اللہ کہاں ہے ؟اس نے کہا آسمان میں ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کون ہوں؟اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزا د کردو یہ تو مومنہ ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب