کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 107
اللہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ عرش پر ہے ایمان کاجز بلکہ مومن ہونے کیلئے شرط ہے: مشکوۃ باب اول فی کون الرقبۃ فی الکفارۃ مؤمنۃ کتاب النکاح میں حدیث ہے: عن معاویة بن السلمی قال اتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلت یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان جاریة کانت لی ترعی غنما لی فجئتہا و قد فقدت شاة من الغنم فسالتہا عنہا فقالت اکلہا الذئب فاسفت و کنت من بنی آدم فلطمت وجہہا و علی رقبة افاعتقہا فقال لہا رسول اللہ این اللہ؟فقالت فی السماء فقال من انا؟فقالت انت رسول اللہ! فقال اعتقہارواہ مالک و فی راویة مسلم فذکر الحدیث و فیہ قال اعتقہا فانہا مؤمنة (باب ما یجوز من العتق فی الرقاب الواجبة مؤطا امام مالک) سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری لونڈی میرا ریوڑ چراتی تھی جب میں اس کے پاس گیا تو میں نے ریوڑ میں سے ایک بکری گم پائی تو میں نے اسکے منہ پر ایک طمانچہ رسید کر دیا اب مجھ پر غلام آزاد کرنا واجب ہے تو کیا میں اسے آزاد کردوں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا اللہ کہاں ہے ؟اس نے کہا آسمان میں ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کون ہوں؟اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزا د کردو یہ تو مومنہ ہے۔ یہ حدیث اس بات کی صراحت کررہی ہے کہ جو استواء علی العرش کا اقرار نہیں کرے گا وہ مومن نہیں ہے نیز امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کتاب التوحید ص80میں یہ حدیث لانے سے پہلے جو باب قائم کرتے ہیں وہ بایں الفاظ ہے: