کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 109

کہاں ہے؟)میں ان لوگوں کی تردید ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ’’اللہ ہر جگہ موجود ہے اور اسے ’’این ‘‘ سے موصوف نہیں کر سکتے کیونکہ کوئی بھی جگہ اس کے وجود سے خالی نہیں ہے اور یہ کہنا بھی ناممکن ہے کہ وہ کہاں ہے ؟لفظ این صرف اس ذات کیل ئے مستعمل ہوسکتا ہے جو کسی جگہ اپنا وجود رکھتی ہو اور کوئی بھی جگہ اس کے وجو سے خالی نہ ہو‘‘۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے جس طرح یہ ژولیدہ خیال لوگ کہہ رہے ہیں تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لونڈی کے قول اور اس کی معرفت کی ضرور نفی کرتے مگر اس لونڈی نے اللہ کی معرفت حاصل کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کرتے ہوئے اس کے ایما ن کی گواہی بھی دی اگر اللہ زمین پر بھی ہوتا جس طرح آسمانوں میں ہے تو اس وقت تک اس کا ایمان کامل نہ ہوتاجب تک کہ وہ اللہ کے زمین پر ہونے کی معرفت حاصل نہ کرلیتی جیسا کہ اس نے اللہ کے آسمانوں میں ہونے کی معرفت حاصل کی ۔ یہ ہے مقررصاحب کی تقریر کہ جس پریہ مختصر تنقید کی گئی ہے اس کے ساتھ ایک اور تقریر بھی ہے مگر اسمیںبھی یہی باتیں بیان کی گئی ہیں لہذا یہ نقد ساری تقریروں کیلئے کافی ہے۔ جو کچھ ہم نے تحریر کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ قرآن و حدیث میں بیان ہوا ہے رہنمائی کے لئے اس کی معرفت کافی ہے یہی علم اور یہی دین ہے اور اس سے مخلوق کی رہنمائی بھی ہوسکتی ہے باقی صوفیاء کاعلم باطنی اور معرفت کا قرآن و حدیث میں کہین بھی ذکر نہیں ہے اس سے انسا ہدایت کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی بجائے گمراہی کی دلدل میں پھنس کر رہ جاتا ہے ذرا سوچئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اللہ کی معرفت کس کو حاصل ہوسکتی ہے؟

  • فونٹ سائز:

    ب ب