کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 110

باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا اعلمکم بالله و ان المعرفة فعل القلب لقول الله تعالی ولکن یؤاخذ کم بماکسبت قلوبکم. عن عائشة قالت کان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اذا امرهم امرهم من الاعمال بما یطیقون قالوا انا لسنا کهیأتك یارسول الله ان الله قد غفرلك ماتقدم من ذنبك وماتاخر فیغضب حتی یعرف الغضب فی وجهه ثم یقول انا اتقاکم واعلمکم بالله. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ تعالی کو جاننے والا میں ہوں اور معرفت دل کے فعل کا نام ہے کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے لیکن ان قسموں پر تمہارا مواخذہ ہوگا جو تم نے (جان بوجھ کر) کھائی ہوں گی ۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو (نیک اعمال کرنے کا) حکم دیتے تو ایسے اعمال کا حکم دیتے جن کو وہ کر سکیں (عبادات شاقہ کی ترغیب کبھی ان کو نہ دیتے تھے)۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی مثل نہیں ہیں ، اللہ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے ہیں (لہذا ہمیں آپ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیئے) اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوگئے حتی کہ چہرہ مبارک میں غضب کا اثر ظاہر ہونے لگا پھر فرمایا کہ تم سب سے زیادہ اللہ تعالی کو جاننے والا میں ہوں۔ بس یہی معرفت اور علم کی انتہا ہے ، اس کے بعد انسانوں کیلئے اور کونسا علم ہوگا؟اسی میں انسانوں کیلئے شرف بھی ہے اور عظمت بھی ۔ اور جو کچھ تم نے بیان کیا ہے اس میں انسان کی عظمت کی بجائے انسان کی تحقیر اور توہین ہے ۔اللہ ہمیں صحیح عظمت نصیب فرمائے جو

  • فونٹ سائز:

    ب ب