کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 19

اسی طرح عبداللہ بن سالم کے خیال میںکھانا توکل کے خلاف ہے (ص405)۔ بعض صوفیاء علاج کو بھی خلاف توکل سمجھتے ہیں ۔(ایضاً ) حالانکہ اسلام میں توکل کامعنی ہرگز یہ نہیں ہے بلکہ اعتماد القلب علی اللہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعقد فتوکل (اس اونٹنی کا گھٹنا باندھ پھر اللہ پر توکل کر)۔اور اللہ کا ارشاد ہے واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ (اور اپنے اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف اپنی طاقت کے مطابق تیاری کرکے رکھو)۔ صوفیاء کے ہاں توکل سے متعلق جو عجیب و غریب واقعات ملتے ہیں ان پر ابن الجوزی رحمہ اللہ تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بغیر توشہ لئے سفر پر جانا یا بدبودار مرا ہوئے جانور کے پاس جا کر لیٹنا جیسے عبداللہ بن خفیف سے منقول ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ جذام زدہ آدمی سے بھاگو۔سیدنا موسی علیہ السلام سفر پر روانہ ہوئے تو زادِ راہ ساتھ لیا توپھر صوفیاء کا توکل کیسا؟ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے بعض صوفیاء پر بھی تنقید کی ہے مثلاً ابو زید کا قول ہے میں چاہتا ہوں کہ قیامت جلد قائم ہواور میں اپنا خیمہ جہنم پر نصب کروں تاکہ اس سے ثابت ہو جائے کہ خدا کا فضل صرف دوستوں پر نہیں دوزخ پر بھی ہوتا ہے اسیطرح کچھ صوفیاء بعض لوگوں کو اجرت پر مقرر کرتے تھے تاکہ انہیں (صوفیاء کو) گالیاں دیں تاکہ ان کا نفس حلم وبردباری سیکھے۔ حسن بن علی دامغانی سے ایک شخص نے کہا کہ میں روزانہ روزہ رکھتا ہوں اور رات کو نماز پڑھتا ہوں مگر آپ کی باتیں میرے دل میں نہیں آتیں تو حسن بن عی نے کہا تیرا نفس ابھی حجاب میں ہے جاکر حجام سے سر اور داڑھی منڈوا ھ لے اور ایک بوری اخروٹ کی لیکر بازار میں جا اور اعلان کر دے کہ جو مجھے ایک تھپڑ مارے گا میں اسے ایک اخروٹ دوں گا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب