کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 20

اسی طرح کے بے شمار خلاف قرآن ، خلاف سنت ، خلاف عقل باتیں ہیں جن پر ابن الجوزی رحمہ اللہ نے تلبیس ابلیس میں تنقید کی ہے اسی طرح امام ابن تیمیہ امام ابن تیمیہ کی صوفیاء پر تنقید نے بھی اپنی کتاب اصحاب صفہ اور تصوف کی حقیقت (جو کہ دراصل انکا ایک فتوی ہے جس کا اردو ترجمہ اس نام سے شائع ہواہے)میں صوفیاء کی اصطلاحات پر تنقید کی ہے فرماتے ہیں (ترجمہ :سیٹیوں ، تالیوں اور قصائد سننے کیلئے جمع ہونا (جسے حال کہاجاتاہے)یہ فعل نہ صحابہ رضی اللہ عنہ نہ اصحاب صفہ نہ سلف کی کسی جماعت نہ تابعین بلکہ قرون اولی میں کسی نے نہیں کیا اس وقت صرف قرآن کا سماع ہوتا تھا (ص41)۔ القاب: رہے وہ القاب و اسماع جو اکثر نساک و عوام کی زبانوں پر جاری ہیں مثلاً غوث، اوتار، قطب، نجباء ، تویہ اسماء نہ کتاب اللہ میں وارد ہیں نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں البتہ ابدال سے متعلق منقطع الاسناد روایت ہے۔(ص59) اور یہ اعتقاد روافض کے اعتقاد کی ایک قسم ہے کہ ہر زمانہ میں ایک امام معصوم کاہونا ضروری ہے جو تمام مکلفین پر حجت ہو…جو لوگ اولیاء کے مراتب قائم کرتے ہیں وہ روافض کی ایک قسم ہیں (ص65)۔ ابدال: اس سے متعلق جو مرفوع حدیثیں آتی ہیں اغلب یہ ہے کہ یہ کلام نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے کیونکہ حجاز و یمن میں ایمان اس وقت سے تھا جب شام و عراق فتح بھی نہیں ہوئے تھے اور سراسر کفر و شرک تھے(ص67)۔ خاتم الاولیاء: اسی طرح خاتم الاولیاء بھی ایک بے معنی اور باطل لفظ ہے سب سے پہلے یہ لفظ محمد بن علی الحکیم الترمذی نے استعمال کیا اس کے بعد ایک خاص گروہ نے اسے لقب کے طور پر اختیار کیا اور اس گروہ کا ہر فرد خاتم الاولیاء ہونے کا دعوی کرتا ہے مثلاً ابن حمویہ اور ابن العربی وغیرہ یہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ یہ دعوی بھی کیا جاتا ہے کہ (معاذ اللہ) بعض اعتبارات

  • فونٹ سائز:

    ب ب