کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 25

مریض کو شکر سے پرہیز کرایا جاتا ہے ۔ اھل تصوف جو خود کو اہل حقیقت کہتے ہیں انکی اور اہل حق کی یہ چپقلش تاحال جاری ہے ا س سلسلہ کی ایک کڑی پیش نظر کتاب :انسانی عظمت کی حقیقت ، ے یہ دراصل علامہ سید بدیع الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ کا لکھا ہوا مقدمہ ہے اسکی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مولوی عبدالکریم بیر شریف کی ایک متصوفانہ تقریر بزبان سندھی انسان کی عظمت تھی اس کا جواب ایک حنفی المسلک جناب محمد حیات لاشاری صاحب نے لکھا اور اس پر شاہ صاحب سے مقدمہ لکھوایا (بعد میں لاشاری صاحب اہلحدیث ہوگئے) لاشاری صاحب کی اصل کتاب تو کسی وجہ سے مفقود ہوگئی مگر شاہ صاحب رحمہ اللہ کا تحریر کردہ مقدمہ علیحدہ مسودہ کی صورت میں موجود رہا جسے سندھی زبان میں شائع کرایا گیا اور علمائے نے اسے قبول عام بخشا موضوع او ر کتاب کی افادیت کے پیش نظر داالدار الراشدیہ نے اپنی شاندار روایات کے مطابق اسکو اردو میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا ترجمہ کی اہم ذمہ داری حافظ عبدالحمید گوندل صاحب نے احتیاط سے بحسن و خوبی نبھائی ہے راقم کو مقدمہ لکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی چونکہ شاہ صاحب رحمہ اللہ کا انداز نہایت علمی ہوتا ہے ا سلئے عوام الناس ان کی کتب سے کماحقہ استفادہ کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں ا سلئے راقم نے حتی الوسع موضوع کو عوام الناس کے لئے آسان فہم بنانے کی غرض سے تفصیلی مقدمہ لکھا ہے اگرچہ تصوف کی تردید و تحقیق پر مزید کام ہونا چاہیئے اور انشاء اللہ علمائے حق کرتے رہیں گے یہ کتاب اس سلسہ کی اہم کڑی ہے امید ہے کہ اھل حق عوام اس سے استفادہ کریں گے مزید تحقیق و تنقید کے لئے کتاب ’’انسانی عظمت کی حقیقت‘‘ ایک سنگ میل کا کردار ادا کرے گی انشاء اللہ ۔اللہ کی ذات سے امید ہے کہ مصنف رحمہ اللہ کی اعلی مترجم ، ناشر اور راقم کی ادنی سی کوششوں کو اپنے دربار میں قبول فرمائے اور تمام معاونین کیلئے ذریعہ نجات اخروی بنائے ۔آمین۔ عبدالعظیم حسن زئی نائب مدیر صحیفہ اہل حدیث کراچی استاد جامعہ ستاریہ اسلامیہ کراچی

  • فونٹ سائز:

    ب ب