کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 27

رضوا عنه و من اهتدی بهدیهم واقتفی آثارهم اولئك هم الفائزون . اللهم صل علیه وسلم و علی آله وصحبه ومن تبعه الی یوم تجمع بین الفریقین فیخسر المبطلون ویفلح الصالحون. اما بعد رسالہ ’’انسان کی عظمت‘‘ کا مضمون قرآن و حدیث اور عقل وفطرت کے خلاف ہے صفحہ 33پر ایک روایت نقل کی گئی ہے جس کی صحت بذمہ ناقل ہے کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو حالت سجدہ میں تھی اور انگلی اوپر کی جانب اٹھائی ہوئی تھی کہ سجدہ صرف اللہ کے لئے ہے کسی اور کے لئے ہر گز نہیں ۔(انسان کی عظمت ص33) اگر یہ روایت صحیح سند سے ثابت ہے تو پھر ’’استواء علی العرش ‘‘والے عقیدے کو فطری کہیں گے کیونکہ ایسا نوزائیدہ بچہ جسے ابھی نہ پڑھایا گیا ہے اور نہ ہی سمجھایا گیا ہے وہ اوپر اشارہ کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اشارہ علی تقریر الثبوت قبل النبوت تھا ۔ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ  اس فطری عقیدے کیخلاف یہ ساری تقریر لغو اور لا یعنی ہے سچ ہے کہ اس فطری عقیدے کیخلاف یہ ساری تقریر لغو اور لا یعنی ہے سچ ہے کہ اس فطری عقیدے کیخلاف یہ ساری تقریر لغو اور لا یعنی ہے سچ ہے کہ دروغ و را حافظہ نہ باشد ’’اللہ تعالیٰ ان جھوٹوں پر ہماری مدد اس طرح کی ہے کہ ان کا حافظہ نہیں ہوتا‘‘۔ ان الله عزوجل اعاننا علی الکذابین بالنسیان ’’اللہ تعالیٰ ان جھوٹوں پر ہماری مدد اس طرح کی ہے کہ ان کا حافظہ نہیں ہوتا‘‘۔ ان الله عزوجل اعاننا علی الکذابین بالنسیان رسالہ ’’انسان کی عظمت‘‘ میں مندرجہ ذیل قابل اعتراض باتیں ہیں : رسالہ ’’انسان کی عظمت‘‘ میں مندرجہ ذیل قابل اعتراض باتیں ہیں : الف:اس پورے رسالے میں اسلام کے خلاف عقیدہ پیش کیاگیا ہے (تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا ان شاء اللہ) الف:اس پورے رسالے میں اسلام کے خلاف عقیدہ پیش کیاگیا ہے (تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا ان شاء اللہ)

  • فونٹ سائز:

    ب ب