کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 28

الف:اس پورے رسالے میں اسلام کے خلاف عقیدہ پیش کیاگیا ہے (تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا ان شاء اللہ) ’’لوگو ! اللہ کے بارے میں(غلط ) مثالیں نہ بناؤ (صحیح مثالوں کا طریقہ) اللہ ہی جانتا ہے تم نہیں جانتے‘‘۔ فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 74؀ ’’لوگو ! اللہ کے بارے میں(غلط ) مثالیں نہ بناؤ (صحیح مثالوں کا طریقہ) اللہ ہی جانتا ہے تم نہیں جانتے‘‘۔ فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 74؀ ۔ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۔ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌیہ آیات مثالون کی تردید کرتی ہیں اور مثالیں دینے والوں کی تنبیہ کے لئے کافی ہیں۔ یہ آیات مثالون کی تردید کرتی ہیں اور مثالیں دینے والوں کی تنبیہ کے لئے کافی ہیں۔ یہ آیات مثالون کی تردید کرتی ہیں اور مثالیں دینے والوں کی تنبیہ کے لئے کافی ہیں۔ ج: اسی رسالے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید مخلوق ہے(نعوذ باللہ ) ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ د: رسالے میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو ایسے طریقے سے معطل رکھا گیا ہے کہ ان کی کیفیت اور تشبیہ لازم آتی ہے یاپھر بالکل بے معنی رہ جاتی ہیں ایسے تمام عقائد ایک دوسرے سے بڑھ کر باطل ہیں ۔ ھ: اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس کو متجزی مانا گیا ہے یااس جوا ز کے لئے حیلہ بنایا گیا ہے۔ و: جاہلانہ طریقے سے قرآن مجید کی آیات کا انکار کیا گیا ہے چنانچہ لکھتا ہے کہ اگر وہ (اللہ )درخت پر نازل ہوتو درخت بولے۔ انی انا اللہ ……الخ (ص25) ز: قرآن مجید کی لفظی تحریف کی گئی ہے یہ یہودیوں کی پرانی عادت ہے۔ ح: معنوی تحریف بھی کی گئی ہے مثلاً درخت کیسے کہے گا کہ میں خود اللہ ہوں یہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب