کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 30

سبحانه و تعالیٰ عما یصفون. ن: رسالہ پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسانوں کا وجود بھی لافانی ہے (ص28-29) اس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ختم کیاگیا ہے۔ وَقَالُوْا مَا هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَآ اِلَّا الدَّهْرُ  وَقَالُوْا مَا هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَآ اِلَّا الدَّهْرُ  اگر وہ نور کے ذرے فانی ہین تو پھر ان کو نور کے ذرے کیوں کہتا ہے؟ اگر وہ نور کے ذرے فانی ہین تو پھر ان کو نور کے ذرے کیوں کہتا ہے؟ اگر وہ نور کے ذرے فانی ہین تو پھر ان کو نور کے ذرے کیوں کہتا ہے؟ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Ĉ۝ اللہ تعالیٰ کی صفات کو فانی کہنا مسلمانوں کا عقیدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کو فانی کہنا مسلمانوں کا عقیدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کو فانی کہنا مسلمانوں کا عقیدہ نہیں ہے۔ ک: اللہ تعالیٰ کی صفات مبارکہ سمع، بصر، کلام وغیرہ کا ہم پر واقع ہونا ، ہمارا سننا، دیکھنا اور بات کرنا ہے۔ یہ عقیدہ حلولین کا ہے سلف میں سے کسی مسلمان سے یہ عقیدہ منقول نہیں ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب