کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 33

جھول ظرف ہیں یا مظروف؟یہ آیت مدح کے بیان میں ہے مذمت کے اور یہ کہ کان تامہ ہے یا ناقصہ ۔ مولانا کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی تفسیر بصورت تحریف پر نظر ثانی کریں۔ ظ: منکرین تقدیر کی ہمت افزائی کی گئی ہے اگر ہماری ساری قوتیں اس کی قوت کے تابع ہیں تو پھر گناہ کرنے میں ہمارا کی قصور؟ رب بھی حق ہے اور بندہ بھی حق الرب حق والعبد حق لیت شعری من المکلف ان قلت عبد فذاك رب و ان قلت رب انی یکلف رب بھی حق ہے اور بندہ بھی حق الرب حق والعبد حق لیت شعری من المکلف ان قلت عبد فذاك رب و ان قلت رب انی یکلف رب بھی حق ہے اور بندہ بھی حق کاش کہ مجھے پتہ ہو کہ مکلف کون ہے اگر تو کہے کہ بندہ ہے یہ تو رب ہے اگرکہے کہ رب ہے تو وہ مکلف کیسے ؟ غ: اس طرح ساری شریعت ، احکام اور قواعد الہیہ بیکار ہیں (نعوذ باللہ) اسلاف کا عقیدہ هذا قول الائمة فی الاسلام والسنة والجماعة نعرف ربنا فی السماء السابعة علی عرشه کما قال جل جلاله الرحمن علی العرش الستوی. هذا قول الائمة فی الاسلام والسنة والجماعة نعرف ربنا فی السماء السابعة علی عرشه کما قال جل جلاله الرحمن علی العرش الستوی. 2۔امام اسحق بن راہویہ فرماتے ہیں : 2۔امام اسحق بن راہویہ فرماتے ہیں : اجمع اهل العلم انه فوق العرش استوی ، ویعلم کل شیء فی اسفل الارض السابعة اجمع اهل العلم انه فوق العرش استوی ، ویعلم کل شیء فی اسفل الارض السابعة 3۔ امام زھبی رحمہ اللہ نے ’’کتاب المطر‘‘ میں امام ابو الحسن الاشعری ابو عمر الطلمنکی ، ابوبکر اسماعیلی اور دیگر ائمہ دین سے یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’اس عقیدے پر اسلاف کا اجماع اور اتفاق رہا ہے‘‘۔ 3۔ امام زھبی رحمہ اللہ نے ’’کتاب المطر‘‘ میں امام ابو الحسن الاشعری ابو عمر الطلمنکی ، ابوبکر اسماعیلی اور دیگر ائمہ دین سے یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’اس عقیدے پر اسلاف کا اجماع اور اتفاق رہا ہے‘‘۔ 4۔ابو عثمان الصابونی فرماتے ہیں : 4۔ابو عثمان الصابونی فرماتے ہیں : و کذالك یقولون فی جمیع الصفات التی نزل بذکرها القرآن ووردت بها الاخبار الصحاح من السمع والبصر والعین والوجه والعلم والقوة والقدرة والعزة والعظمة والارادة والمشیئة والقول والکلام والرض والسخط والحیاة والیقظة والفرح والضحك وغیرها من غیر تشبیه لشئی من ذلك بصفات المربوبین المخلوقین بل ینتهون فیها الی ماقاله الله تعالیٰ و قاله رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم من غیر زیادة علیه ولا اضافة الیه ولاتکییف له ولاتشبیه ولا تحریف ولا تبدیل ولاتغییر ولا ازالة للفظ الخبر مما تعرفه العرب و تضعه علیه بتاویل منکر ویجرونه علی الظاهر ویکلون علمه الی الله تعالیٰ یقرون بان تاویله لا یعلمه الا الله کم اخبر الله عن الراسخین فی العلم انهم یقولونه و قوله تعالیٰ﴿والراسخون فی العلم یقولون امنا به کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالباب﴾ویعتقد اهل الحدیث و یشهدون ان الله سبحانه و تعالیٰ فوق سبع سموات علی عرشه کما نطق به کتابه فذکر الآیات یثبتون له من ذلك ما اثبته الله تعالیٰ و یؤمنون به و یصدقون الرب جل جلاله فی خبره ویطلقون ما اطلقه سبحانه و تعالیٰ من استوائه علی العرش و یمرون علی ظاهره و یکلون علمه الی الله

  • فونٹ سائز:

    ب ب