کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 34
’’تمام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے اور زمین کی پاتال تک ہر چیز سے باخبر ہے‘‘۔ 3۔ امام زھبی رحمہ اللہ نے ’’کتاب المطر‘‘ میں امام ابو الحسن الاشعری ابو عمر الطلمنکی ، ابوبکر اسماعیلی اور دیگر ائمہ دین سے یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’اس عقیدے پر اسلاف کا اجماع اور اتفاق رہا ہے‘‘۔ 4۔ابو عثمان الصابونی فرماتے ہیں : و کذالک یقولون فی جمیع الصفات التی نزل بذکرہا القرآن ووردت بہا الاخبار الصحاح من السمع والبصر والعین والوجہ والعلم والقوة والقدرة والعزة والعظمة والارادة والمشیئة والقول والکلام والرض والسخط والحیاة والیقظة والفرح والضحک وغیرہا من غیر تشبیہ لشئی من ذلک بصفات المربوبین المخلوقین بل ینتہون فیہا الی ماقالہ اللہ تعالیٰ و قالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من غیر زیادة علیہ ولا اضافة الیہ ولاتکییف لہ ولاتشبیہ ولا تحریف ولا تبدیل ولاتغییر ولا ازالة للفظ الخبر مما تعرفہ العرب و تضعہ علیہ بتاویل منکر ویجرونہ علی الظاہر ویکلون علمہ الی اللہ تعالیٰ یقرون بان تاویلہ لا یعلمہ الا اللہ کم اخبر اللہ عن الراسخین فی العلم انہم یقولونہ و قولہ تعالیٰ﴿والراسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالباب﴾ویعتقد اہل الحدیث و یشہدون ان اللہ سبحانہ و تعالیٰ فوق سبع سموات علی عرشہ کما نطق بہ کتابہ فذکر الآیات یثبتون لہ من ذلک ما اثبتہ اللہ تعالیٰ و یؤمنون بہ و یصدقون الرب جل جلالہ فی خبرہ ویطلقون ما اطلقہ سبحانہ و تعالیٰ من استوائہ علی العرش و یمرون علی ظاہرہ و یکلون علمہ الی اللہ