کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 41

یاد رکھیں کہ میلاد منانا فرعونیوں کی سنت ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے بائبل عربی۔ الاصحاح الحادی والاربعون اور بائبل اردو (صفحہ 42) وہ بہت خوب! کیا یہ انسانی عظمت ہے کہ لوگوں کو فرعون کے طریقے پر چلنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ کیا سلف صالحین کے دور میں علمی ادارے موجود نہ تھے؟ اور کیا انہوں نے اس قسم کی مجالس کو کوئی اہمیت دی تھی؟ نہ پیروی قیس نہ فرہاد کریں گے ہم طرزِ جنوں اور ہی ایجاد کریں گے میلاد یا سالگرہ منانا عیسائیوں کا طریقہ ہے یا مسلمانوں کا؟ و سوف تری اذا انکشف الغبار افرس تحت رجلک ام حمار کمالِ انسانی کی جتنی بھی منزلیں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی نشاندہی کی ہے اور تم جس منزل کا ذکر کر رہے ہو اس کا وجود کہیں بھی نہیں ہے۔ قال۔ ایک ہی قسم کی دو چیزیں جب الگ الگ ہوتی ہیں تو ان کی اپنی اپنی طاقت ہوتی ہے لیکن جب انہی دو چیزوں کو ملا دیا جائے تو پھر الگ سے ایک ایسی قوت پیدا ہوتی ہے جو ان دونوں میں موجود نہیں ہوتی۔ دو چیزوں کو مرکب کرنے سے ایک نئی قوت جنم لیتی ہے۔ (صفحہ 25) اقول۔ یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے کیونکہ ایسی کوئی چیزیں ہیں جن کی حقیقت بھی الگ ہے ایسی چیز کہ جس میں دونوں احتمالات پائے جاتے ہوں کہ کبھی صحیح ہے اور کبھی غلط تو ایسی چیز کے مقدمات اور اس سے حاصل ہونی والے نتائج پر اعتماد کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ دلیل کا ہونا لازمی ہے اور مناسب یہ ہے کہ ٹھوس بات پر یقین کی بنیاد رکھی جائے۔ ما کان بهٰذه الصفة مما یصدق مرة و یکذب اخری ولا ینبغی ان یوثق بمقدماته ولا بنتائجها الحادثة عنها ولا یجب ان یلتزم فی اخذ البرهان وانما ینبغی ان یوثق بما قد تیقن انه لا یخون ابدا ایسی چیز کہ جس میں دونوں احتمالات پائے جاتے ہوں کہ کبھی صحیح ہے اور کبھی غلط تو ایسی چیز کے مقدمات اور اس سے حاصل ہونی والے نتائج پر اعتماد کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ دلیل کا ہونا لازمی ہے اور مناسب یہ ہے کہ ٹھوس بات پر یقین کی بنیاد رکھی جائے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب