کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 42
اور قوت بھی الگ۔ مثلا ایسی چیزوں کو ترتیب دینے سے زائد یا الگ طاقت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلائی کئی متضاد چیزیں اپنی جداگانہ حیثیت میں فائدہ مند ہوتی ہیں لیکن جب انہیں ملا دیا جاتا ہے تو یہ اپنی افادیت کھو کر ضرر رساں بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر حضرات اور حکماء سے یہ بات مخفی نہیں ہے۔ ایسی بات پر اپنے مدعا کی بنیاد رکھنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ امام ابن حزم رحمہ اللہ کتاب التقریب ص 106 میں فرماتے ہیں: ما کان بہٰذہ الصفة مما یصدق مرة و یکذب اخری ولا ینبغی ان یوثق بمقدماتہ ولا بنتائجہا الحادثة عنہا ولا یجب ان یلتزم فی اخذ البرہان وانما ینبغی ان یوثق بما قد تیقن انہ لا یخون ابدا ایسی چیز کہ جس میں دونوں احتمالات پائے جاتے ہوں کہ کبھی صحیح ہے اور کبھی غلط تو ایسی چیز کے مقدمات اور اس سے حاصل ہونی والے نتائج پر اعتماد کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ دلیل کا ہونا لازمی ہے اور مناسب یہ ہے کہ ٹھوس بات پر یقین کی بنیاد رکھی جائے۔ اور تم نے خود جن چار عناصر کا تذکرہ کیا ہے یعنی آگ پانی ہوا اور خاک، انہی پر غور کر لو کہ کیا آگ اور پانی مل سکتے ہیں؟ ہوا اور خاک کا کوئی مقابلہ ہو سکتا ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسی کئی چیزوں کو ملایا ہے جو باہم متضاد بھی ہیں اور باہم موافق بھی مثلاً: [الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَآ اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ ] وہی ہے جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس سے آگ سلگاتے ہو۔ اب تم آگ اور درخت ملا کر دکھاؤ؟ قال۔ جو وجود جس طرف سے بھی کھلے گا لازماً اسے انہی اجزاء سے بنا ہو ماننا پڑیگا (ص26)