کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 43

اقول۔ علاوہ ازیں صفحہ 38 دیکھئے فرماتے ہیں کہ علیم کی تجلی آئی تو دماغوں میں علم آیا، کلیم کی تجلی آئی زبانوں میں اثر آیا۔ مرید کی تجلی آئی تو دل میں ارادہ آیا، قدیر کی تجلی آئی تو بدن میں قوت آئی اور وحی کی تجلی نے ہمیں زندہ بنایا۔ الخ۔ تمہارے بقول اگر ہر چیز تجلی کی مرہون منت ہے تو پھر ان چار چیزوں کے ملنے سے قوت کیوں نہ آئی آگ، پانی، ہوا اور خاک پر تجلی کا کچھ تو اثر نظر آتا؟ اس عبارت میں جتنے مفسد پہلو ہیں ان کا ذکر آگے آئے گا (ان شاء اللہ)۔ قال: اس کا وجود خاکی ہے لہذا اس کا اضافہ بھی خاک سے کیاگیا ہے صفحہ 26۔ اقول :خاک اور غذا میں کیا مناسبت ہے؟ جنات کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے ۔ کما هو نص القرآن والحدیث﴿خلق الجان من مارج من النار﴾(الرحمن) والحدیث اخرجه مسلم المشکوة باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء علیهم الصلوة والسلام الفصل اول تو جنات کے لئے غذا کس لئے ہے؟ اگر یہ کہو گے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر انسانی غذا زمین کی پیداوار ہے پھر بھی دعوے میں تناقض رہے گا کیونکہ قرآن مجید میں سیدنا عیسی علیہ السلام کی دعا پر آسمان سے المائدہ اترنے کا حکم موجود ہے ۔ قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا  انہوں نے کہا کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں کیا یہ بھی زمینی پیداوار تھی؟ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى  اور تمہارے لئے من و سلوی اتارا۔ سلوی کے بارے میں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے پرندوں کا شکار مراد ہے اور پرندے زمین پر رہتے ہیں اور زمینی پیداوار کھاتے ہیں مگر من تو آسمان سے نازل کردہ چیز تھی یہ تو زمین کی پیداوار نہ تھی ۔ علاوہ ازیں یہ کہ شہداء کی ارواح کو جنت میں سبز پرندے کی شکل دے کر چھوڑ دیاجاتا ہے۔ کما فی الحدیث و قال تعالی عَنْدَ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ١٦٩؁ۙ

  • فونٹ سائز:

    ب ب