کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 48

تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے اسی طرح یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے۔ یعنی اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں یا بالفرض آپ کے بعد کوئی نبی فرض کیا جائے تو بھی خاتمیت محمد میں فرق نہیں آئے گا (تحذیر الناس ص12طبع یوبند)۔ یعنی اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں یا بالفرض آپ کے بعد کوئی نبی فرض کیا جائے تو بھی خاتمیت محمد میں فرق نہیں آئے گا (تحذیر الناس ص12طبع یوبند)۔ یعنی اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں یا بالفرض آپ کے بعد کوئی نبی فرض کیا جائے تو بھی خاتمیت محمد میں فرق نہیں آئے گا (تحذیر الناس ص12طبع یوبند)۔ بالصورت دیگر یہ کہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی انسان کامل نہیں ہو سکتا اور اپنی بیان کردہ مثال کو اپنی جیب میں رکھو۔ قال۔ اماں آمنہ بیان کرتی ہیں (ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں) کہ بچے کے پیٹ میں آنے سے جس طرح ماں کو تکلیف اور بوجھ محسوس ہوتا ہے، حمل کے سارے عرصے میں مجھے کچھ بھی محسوس نہ ہوا (صفحہ13) اقول۔ یہ بات کسی بھی معتبر روایت سے منقول نہیں ہے بلکہ ایک موضوع روایت پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے جو کہ طبقات ابن سعد ص 98 ج 1 طبع بیروت میں مندرجہ ذیل سند ابن سعد اپنے استاذ محمد بن عمر واقدی سے وہ علی بن یزید بن عبداللہ بن وھب بن زمعہ سے وہ اپنے والد سے اور وہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمنہ بنت وھب کے پیٹ میں تھے تو ہم نے یہ سنا تھا…… قال اخبرنا محمد بن عمر بن واقد الاسلمی قال حدثنی علی بن یزید بن عبداللہ بن وهب بن زمعة عن ابیه عمن عمته قالت کنا نسمع ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لما حملت به آمنة بنت وهب..... ابن سعد اپنے استاذ محمد بن عمر واقدی سے وہ علی بن یزید بن عبداللہ بن وھب بن زمعہ سے وہ اپنے والد سے اور وہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمنہ بنت وھب کے پیٹ میں تھے تو ہم نے یہ سنا تھا…… قال اخبرنا محمد بن عمر بن واقد الاسلمی قال حدثنی علی بن یزید بن عبداللہ بن وهب بن زمعة عن ابیه عمن عمته قالت کنا نسمع ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لما حملت به آمنة بنت وهب..... یہاں ابن سعد کا استاذ محمد عمر واقدی ہے جو کہ مشہور کذاب راوی ہے واقدی کے بارے میں ائمہ محدثین اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں : یہاں ابن سعد کا استاذ محمد عمر واقدی ہے جو کہ مشہور کذاب راوی ہے واقدی کے بارے میں ائمہ محدثین اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں : قال الشافعی فی ما اسنده البیهقی کتب الواقدی کلها کذب و قال النسائی فی الضعفاء الکذابون المعروفون بالکذب علی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اربعة الواقدی بالمدینة و قال ابو داؤد ما اشك انه کان یفتعل الحدیث .و قال بندار ما رایت اکذب منه. قال اسحاق بن راهویه هو عندی ممن یضع. وحکی ابو العرب عن الشافعی قال کان بالمدینة سبع رجال یضعون الاسانید احدهم الواقدی. و عن ابی حاتم انه قال کان یضع و قال ابو زرعة الرازی و ابو بشر الدولابی والعقیلی متروك الحدیث. قال الشافعی فی ما اسنده البیهقی کتب الواقدی کلها کذب و قال النسائی فی الضعفاء الکذابون المعروفون بالکذب علی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اربعة الواقدی بالمدینة و قال ابو داؤد ما اشك انه کان یفتعل الحدیث .و قال بندار ما رایت اکذب منه. قال اسحاق بن راهویه هو عندی ممن یضع. وحکی ابو العرب عن الشافعی قال کان بالمدینة سبع رجال یضعون الاسانید احدهم الواقدی. و عن ابی حاتم انه قال کان یضع و قال ابو زرعة الرازی و ابو بشر الدولابی والعقیلی متروك الحدیث.

  • فونٹ سائز:

    ب ب