کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 50

مدینہ میں رہتا تھا ۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خود حدیثیں گھڑتا تھا ۔ امام بندار فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے جھوٹا شخص نہیں دیکھا۔ امام اسحق بن راھویہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ شخص ان لوگوں کی فہرست میں شامل ہے جو خود حدیثیں بناتے ہیں ۔ ابو العرب ، امام شافعی سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مدینے میں سات آدمی ایسے ہیں جو جھوٹی سندیں وضع کرتے ہیں اور واقدی ان میں سے ایک ہے ،امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ وہ خود حدیثیں بناتاتھا ،امام ابو زرعہ رازی، امام ابو بشر الدولابی اور امام عقیلی کے نزدیک واقدی متروک ہے۔ کہ میں اسے بالکل پسند نہیں کرتا ، نہ علم حدیث میں، نہ علم انساب میں او رنہ ہی کسی دوسری چیز میں ۔ لاارضاه فی الحدیث ولا فی الانساب ولا فی شیئ. کہ میں اسے بالکل پسند نہیں کرتا ، نہ علم حدیث میں، نہ علم انساب میں او رنہ ہی کسی دوسری چیز میں ۔ لاارضاه فی الحدیث ولا فی الانساب ولا فی شیئ. کہ میں اسے بالکل پسند نہیں کرتا ، نہ علم حدیث میں، نہ علم انساب میں او رنہ ہی کسی دوسری چیز میں ۔ استقر الاجماع علی وهن الواقدی استقر الاجماع علی وهن الواقدی واقدی کے (علم حدیث میں ) کمزور ہونے پر اجماع ہے۔ نیز باقی راویوں کا کبھی کوئی پتہ نہیں ، علاوہ ازیں ’’کنا نسمع‘‘ یہ جملہ روایت کے انقطاع اور جہالت سند پر دلالت کررہا ہے کیونکہ معلوم نہیں کہ کس سے سنا؟ طبقات ابن سعد ہی میں مذکورہ روایت کی ایک او ر سند بھی ہے۔ قال اخبرنا محمد بن عمر بن واقدی قال حدثنی محمد بن عبدالله عن الزهری قال قالت آمنة علقت به فما وجدت له مشقة حتی وضعته.

  • فونٹ سائز:

    ب ب