کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 51

ابن سعد اپنے استاذ محمد بن عمر واقدی سے بیان کرتے ہیں کہ زہری نے کہا آمنہ کہا کرتی تھیں کہ جب میں حاملہ ہوئی تو بچہ جننے تک مجھے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی ۔ اس سند میں وہی واقدی کذاب اور وضاع ہے ، اور امام زہری سے بی بی آمنہ تک سند بھی منقطع ہے ایسی مجہول اور بناوٹی روایت پر اعتبار کرنا اور اسے مسند وعظ پر بیان کرنا علماء کی شان نہیں ہے اور ایسی بناوٹی روایت کو جو قدرتی اور فطری نظام کے خلاف ہو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّوَضَعَتْهُ كُرْهًا حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّوَضَعَتْهُ كُرْهًا اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا۔ تو جو قانون قرآن نے بیان کر دیا ا س کے خلاف واقدی جیسے جھوٹے شخص کی بات کوئی وزن نہیں رکھتی۔ فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ پھر دردزہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ اسحق بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ فرماتی تھیں کہ میں کئی بار حاملہ ہوئی ہوں مگر ا س سے بھاری حمل کوئی نہیں تھا۔ اخبرنا عمرو بن عاصم الکلابی اخبرنا همام بن یحییٰ عن اسحاق بن عبدالله قال قالت ام النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد حملت الاولاد کما حملت سخلة اثقل منه. اسحق بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ فرماتی تھیں کہ میں کئی بار حاملہ ہوئی ہوں مگر ا س سے بھاری حمل کوئی نہیں تھا۔ اخبرنا عمرو بن عاصم الکلابی اخبرنا همام بن یحییٰ عن اسحاق بن عبدالله قال قالت ام النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد حملت الاولاد کما حملت سخلة اثقل منه.

  • فونٹ سائز:

    ب ب