کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 52

اسحق بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ فرماتی تھیں کہ میں کئی بار حاملہ ہوئی ہوں مگر ا س سے بھاری حمل کوئی نہیں تھا۔ یہ روایت بھی منقطع ہے اس کے علاوہ اس میں اور کوئی خرابی نہیں ہے مگر اس میں بیان کردہ مضمون ہر اس شخص کے خلاف ہے جو اس بات کو جھٹلاتا ہے ۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ اپنے ابتدائی حالات کے بارے میں بتائیے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ابراہیم(علیہ السلام ) کی دعا اور اپنے بھائی عیسی (علیہ السلام ) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔(اور میری وجہ سے ) میری ماں بوجھل ہوگئی جس طرح کہ حاملہ عورتیں بوجھل ہوجاتی ہیں اورگھر والوں سے اس تکلیف کی شکایت بھی کرتی تھی۔ واخرج ابو یعلی و ابو نعیم و ابن عساکر عن شداد بن اوس ان رجلا من بنی عامر سأل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ما حقیقة امرك؟فقال بدأ شانی انی دعوة ابراهیم و بشری اخی عیسی و انی کنت بکر امی و انها حملت بی کاثقل ماتحمل النسآء و جعلت تشتکی الی صواحبها ثقل ما تجد. سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ اپنے ابتدائی حالات کے بارے میں بتائیے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ابراہیم(علیہ السلام ) کی دعا اور اپنے بھائی عیسی (علیہ السلام ) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔(اور میری وجہ سے ) میری ماں بوجھل ہوگئی جس طرح کہ حاملہ عورتیں بوجھل ہوجاتی ہیں اورگھر والوں سے اس تکلیف کی شکایت بھی کرتی تھی۔ واخرج ابو یعلی و ابو نعیم و ابن عساکر عن شداد بن اوس ان رجلا من بنی عامر سأل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ما حقیقة امرك؟فقال بدأ شانی انی دعوة ابراهیم و بشری اخی عیسی و انی کنت بکر امی و انها حملت بی کاثقل ماتحمل النسآء و جعلت تشتکی الی صواحبها ثقل ما تجد. سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ اپنے ابتدائی حالات کے بارے میں بتائیے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ابراہیم(علیہ السلام ) کی دعا اور اپنے بھائی عیسی (علیہ السلام ) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔(اور میری وجہ سے ) میری ماں بوجھل ہوگئی جس طرح کہ حاملہ عورتیں بوجھل ہوجاتی ہیں اورگھر والوں سے اس تکلیف کی شکایت بھی کرتی تھی۔ تو اس قسم کا تعارض بھی واقعے کی اصل کو جعلی اور بناوٹی بنا دیتا ہے۔ قال: اس وقت لوگ حصول برکت کے لئے کعبۃ اللہ شریف میں عورتوں کو لے جاکر زچگی کا عمل کراتے تھے۔ (صفحہ 38) اقول: قصہ مذکورہ کا کہیں بھی کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ نہ کسی حدیث مین اور نہ ہی تاریخ کی کسی معتبر کتا ب میں مورخین کے ہاں تو یہ مشہور ہے کہ قبل از اسلام جاہلیت کے زمانے میں ہفتے میں تین بار ، پیر ، جمعرات اور جمعہ کو بیت اللہ کو کھولا جاتا تھا۔ کما ذکر الفاسی فی العقد الثمین فی تاریخ البلد الامین ص60۔اور زچگی کا کوئی دن مقرر نہ تھا بلکہ مکہ شہر میں کتنے ہی بچوں کی پیدائش ہوتی ہونگی تو سب کو کس طرح وہاں لے جایا جاتا ہوگا جبکہ بیت اللہ تو بند رکھا جاتا تھا یہ باتیں حقیقت حال کے بالکل خلاف ہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب