کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 53
قال: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس وقت مجھے نور کی اس قدر تیز شعاعیں نظر آئیں کہ جنہوں نے درودیوار کو روشن کر دیااور ملک شام کے محلات صاف نظر آئے (ص 32) اقول :یہ روایت بھی صحیح نہین ہے جیسا کہ علامہ سیوطی الخصائص الکبری ص 115ج1میں لکھتے ہیں : کما روی ابن اسحق آمنة تحدث انہا اتیت حین حملت فقال لہ انک قد حملت بسید ہذہ الامة وآیة ذلک ان یخرج معہ نور یملا قصور بصری من ارض الشام فاذا وقع فیسمیہ محمد. ابن اسحق روایت کرتے ہیں کہ بی بی آمنہ بیان کرتی ہیں کہ زمانہ حمل میں مجھے خوشخبریاں دینے والے آتے رہتے تھے انہی میں سے ایک نے کہا کہ تمہارے پیٹ میں اس امت کا سردار ہے اور اس بات کی نشانی یہ ہے کہ وضع حمل کے وقت ایک نور نکلے گا جو ملک شام اور اس کے محلات کو روشن کردے گا جب وہ پیدا ہوتو اس کا نام محمد رکھنا۔ دیکھئے! یہاں نہ سند ذکر ہے اور نہ ہی کسی کتاب کا حوالہ لہذا یہ روایت بھی قابل اعتبار نہیں ۔ ہاں مشکوۃ میں ایک صحیح روایت بایں الفاظ موجود ہے: عن العرباض (رضی اللہ عنہ) بن ساریة عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال انی عند اللہ مکتوب خاتم النبیین و ان آدم لمنجدل فی طینتہ و سا خبرکم باول امری دعوة ابی ابراہیم و بشارة عیسی و رؤیا امی التی رات حین و ضعتنی وقد خرج لہا نور اضاء لہامنہ قصور الشام