کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 54

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ کے ہاں اس وقت بھی خاتم النبیین لکھا ہوا تھا جب کہ آدم (علیہ السلام ) ابھی گوندھی ہوئی مٹی میں تھے ۔ میں تمہیں اپنی پیدائش کی ابتداء بتلاتا ہوں کہ میں ابرایم (علیہ السلام ) کی دعا ، عیسی (علیہ السلام ) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں ۔ میری والدہ نے دیکھا کہ جب میں پید اہوا تو ایک نور نکلا جس کی وجہ سے ملک شام کے محلات روشن ہوگئے۔ یہ روایت الخصائص الکبری للسیوطی صفحہ 114ج1میں بحوالہ احمد، بزار، طبرانی، حاکم ، بیہقی، اور ابو نعیم مذکور ہے یہ روایت اس بارے میں فیصلہ کن ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے مگر صحیح روایات کو چھوڑ کر بے سروپا روایات بیان کرنا آج کل کے اکثر مولوی حضرات کا شیوہ بن چکا ہے اللہ تعالی انہیں ہدایت نصیب کرے۔(آمین) اقول:صرف اتنا کافی نہیں ہے کیونکہ اس طرح تو صرف ان کا شفاف ہونا ممکن اور ثابت ہوتا ہے اور مکان وقوع کو مستلتزم نہیں ہے وقوع کے لئے ثبوت درکا ر ہیں۔ وھو فی حین المنع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بھی ایسی بات منسوب نہیں کی جاسکتی کہ جس کا ثبوت نہ ہو بلکہ ہر چیز کی طرف اس وقت تک نسبت نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کے لئے کوئی واضح اور قوی ثبوت نہ ہو۔ اقول:صرف اتنا کافی نہیں ہے کیونکہ اس طرح تو صرف ان کا شفاف ہونا ممکن اور ثابت ہوتا ہے اور مکان وقوع کو مستلتزم نہیں ہے وقوع کے لئے ثبوت درکا ر ہیں۔ وھو فی حین المنع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بھی ایسی بات منسوب نہیں کی جاسکتی کہ جس کا ثبوت نہ ہو بلکہ ہر چیز کی طرف اس وقت تک نسبت نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کے لئے کوئی واضح اور قوی ثبوت نہ ہو۔ اقول:صرف اتنا کافی نہیں ہے کیونکہ اس طرح تو صرف ان کا شفاف ہونا ممکن اور ثابت ہوتا ہے اور مکان وقوع کو مستلتزم نہیں ہے وقوع کے لئے ثبوت درکا ر ہیں۔ وھو فی حین المنع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بھی ایسی بات منسوب نہیں کی جاسکتی کہ جس کا ثبوت نہ ہو بلکہ ہر چیز کی طرف اس وقت تک نسبت نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کے لئے کوئی واضح اور قوی ثبوت نہ ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب