کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 56

عبدالمطلب کو خوشخبری بھیجی کہ آپکا پوتا پیدا ہوا ہے آپ آکر اسے دیکھ لیں۔چنانچہ عبدالمطلب بچے کو دیکھنے آئے تو بی بی آمنہ نے جو کچھ دیکھا تو انہیں بتلا دیا۔ قارئین کرام ! غور کریں کہ نہ سند کا ذکر ہے اور نہ ہی ابن اسحق سے بی بی آمنہ تک کوئی واسطہ ہے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے السیرۃ النبوۃ صفحہ 205پر یہ واقعہ نقل کیا ہے لیکن سند ندارد۔ اگر بالفرض اس روایت کو صحیح بھی مان لیں تب بھی صاحب کتاب کا بیان کردہ واقعہ مبنی پر کذب ہے۔ قال : یہ جتنے بھی موجودات تمہیں نظر آرہے ہیں یہ بات ضروری ہے کہ انہیں کبھی ایسے وجود کا ٹھکانہ حاصل ہو کہ جو کسی کا محتاج نہ ہو۔(صفحہ 36) اقول : ہر ایک کا مستقر (ٹھکانہ ) الگ الگ ہے ۔ وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا اس کے رہنے کی جگہ اور جہاں وہ سونپا جات ہے اللہ تعالی کے علم میں ہے ۔ اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے ا س کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے۔ وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا ۭاِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ 15؀ۧ اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے ا س کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے۔ وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا ۭاِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ 15؀ۧ اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے ا س کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے۔ قال: یہ جتنی بتیاں یہاں جل رہی ہیں یہ ضروری ہے کہ ان کا کوئی مرکز ہو جو کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو بلکہ بذات خود جلنے والا ہو۔(صفحہ 36) اقول : جس مالک الملک کی تعریف یہ ہو کہ ’’لَیْسَ کَمِثْلِه شَیْئٌ‘‘اس کے لئے بتوں کی لشکر کا مرکز ان کا وہ ٹھکانہ ہے جس میں وہ تیر گاڑتے ہیں (یعنی جمع کرتے ہیں ) ومرکز الجند محطهم الذی فیه رکزوا الرماح لشکر کا مرکز ان کا وہ ٹھکانہ ہے جس میں وہ تیر گاڑتے ہیں (یعنی جمع کرتے ہیں )

  • فونٹ سائز:

    ب ب