کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 57
مثال دینا ہی غلط ہے نیز مرکزی چیز کو جلنے والا کہنا عین شرک ہے کیونکہ آپ نے اسے بھی واجب الوجود قرار دیا علاوہ ازیں مرکز کی مثال دے کر اللہ تعالی کی شان میں عجیب جسارت کا مظاہرہ کیا ہے لسان العرب صفحہ 355جلد5میں ہے کہ : ومرکز الجند محطہم الذی فیہ رکزوا الرماح لشکر کا مرکز ان کا وہ ٹھکانہ ہے جس میں وہ تیر گاڑتے ہیں (یعنی جمع کرتے ہیں ) اب بنظر انصاف دیکھ کر بتلائیں کہ یہ مثال اللہ کی شان میں کتنی زبردست گستاخی ہے اللہ تعالی کو مخلوق کا مرکز کہنا بدعتی عقیدہ ہے اہل اسلام کے عقیدے کے خلاف ہے اسلام کا عقیدہ تویہ تھا : قال الامام ابو عبداللہ الحاکم فی معرفة علوم الحدیث ص 84سمعت محمد بن صالح بن ہانی یقول سمت ابابکر محمد بن اسحاق بن خزیمة یقول من لم یقربان اللہ تعالی علی عرشہ قد استوی فوق سبع سموات فہو کافر بربہ یستتاب فان تاب والا ضربت عنقہ والقی فی بعض المزابل حیث لایتاذی المسلمون المعاہدون بنتن ریح جیفتہ و کان مالہ فیئا لا یرثہ احد من المسلمین اذا المسلم لا یرث الکافر کما قال صلی اللہ علیہ وسلم امام محمد بن اسحق بن خزیمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس عقیدے کا اظہار نہیں کرتا کہ اللہ تعالی ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے تو ایسا شخص اپنے رب سے کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ اب ایسے شخص سے توبہ کروائی جائے ۔ اگر وہ (اپنے عقیدہ بد سے ) توبہ کر لیتا ہے تو ٹھیک ہے وگرنہ اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی لاش کو گندگی (اور غلاظت کے ڈھیر) پر پھینک دیاجائے تاکہ کسی (صحیح العقیدہ) مسلمان کو