کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 58

اس کی سڑی ہوئی لاش کی بدبو نہ پہنچ سکے۔ ا س کا ترکہ مال غنیمت سمجھا جائے اور کوئی بھی مسلمان اس کا وارث نہیں بن سکتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ مسلما ن کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔ ایضاً مرکز تو خو محتاج ہوتا ہے اگر ا س کی فرع نہ ہوتو اسے مرکز نہیں کہیں گے اب مولانا صاحب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ مخلوق اللہ کی فرع ہے (نعوذ باللہ) اور اگر اللہ کو فرع کا محتاج کہیں گے تو پھر ’’کَانَ اللّٰهُ وَلَمْ یَکُنْ شَیْئًا‘‘کا کیا مطلب ہوگا؟ قال: یہ جو بتیاں تمہارے سامنے جل رہی ہیں فی الحال فرض کر لو کہ یہ جلنے کے بعد بذاتِ خود جل رہی ہیں (صفحہ 36) اقول: جب یہ ذاتی ہے ہی نہیں تو پھر ذاتی کس طرح سمجھیں ؟یہ آپ کا یونانی فلسفہ اور عقلیات ہے کہ ممکنات کو واجبات بناتے ہو ایک فرضی مثال سے اللہ تعالی کا تعارف کرانا یہ کونسی معرفت الہی ہے؟کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بتلایا ہے یا پھر آپ پر کوئی نیا الہام ہوا ہے؟ اقول: یہ مثال آپ نے نور کے لئے دی ہے اور اس بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہو یہ سراسر غلط ہے کیا اللہ تعالی کی طرف سے آئے ہوئے نور کی حقیقت یہی ہے کہ ذرے فنا ہورہے ہیں اور ان کے پیچھے مزید ذرات چلتے آرہے ہیں(معاذ اللہ ) اقول: یہ مثال آپ نے نور کے لئے دی ہے اور اس بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہو یہ سراسر غلط ہے کیا اللہ تعالی کی طرف سے آئے ہوئے نور کی حقیقت یہی ہے کہ ذرے فنا ہورہے ہیں اور ان کے پیچھے مزید ذرات چلتے آرہے ہیں(معاذ اللہ ) اقول: یہ مثال آپ نے نور کے لئے دی ہے اور اس بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہو یہ سراسر غلط ہے کیا اللہ تعالی کی طرف سے آئے ہوئے نور کی حقیقت یہی ہے کہ ذرے فنا ہورہے ہیں اور ان کے پیچھے مزید ذرات چلتے آرہے ہیں(معاذ اللہ ) ملتا، اسٹیج خالی تھا جس پر ہم آکر بیٹھے ہیں اس کا معنی یہ کہ ہمارے وجود کو اس بابرکت ذات کے وجود سے نوری شعاعیں اور ذرات ملتے رہتے ہیں کہ جس کی وجہ سے ہمارا وجود برقرار رہے اگر ان کے آگے پردہ آجائے تو ہمارا وجود ختم ہوجائے(36-37) ملتا، اسٹیج خالی تھا جس پر ہم آکر بیٹھے ہیں اس کا معنی یہ کہ ہمارے وجود کو اس بابرکت ذات کے وجود سے نوری شعاعیں اور ذرات ملتے رہتے ہیں کہ جس کی وجہ سے ہمارا وجود برقرار رہے اگر ان کے آگے پردہ آجائے تو ہمارا وجود ختم ہوجائے(36-37)

  • فونٹ سائز:

    ب ب