کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 60
سادساً:وہ کونسا ایسا پردہ ہے جو اللہ کے نور کے آگے بند باندھتا ہے اور اللہ کے نور کو ناقص کیسے کہہ رہے ہو؟ سابعاً: امام محمد بن اسحق بن خزیمہ رحمہ اللہ کتاب التوحید میں فرماتے ہیں : قال الامام ابن خزیمة فی کتاب التوحید ص 75قال اللہ تعالی لما سالہ کلیمہ موسی علیہ السلام ان یرید ان ینظر الیہ قَالَ لَنْ تَرَانِیْ وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلیٰ الْجَبَلِ اِلیٰ قَوْلِہ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہ دَکًّا ولو لیس العلم محیطا بالمخلوقات ویکون اللہ فی کل موضع و مع کل بشر و خلق کما زعمت المعطلة لکان متجلیا لکل شئی و کذلک جمیع ما فی الارض الی ان قال لجعلہا دکا کما جعل اللہ الجبل الذی تجلی لہ دکا قال اللہ تعالی فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہ لِلْجَبَلِ جَعَلَہ دَکًّا. ’’جب موسی علیہ السلام نے اللہ سے کہا کہ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں تو اللہ نے فرمایا تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکوگے ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو۔ اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے پھر جب اللہ تعالی نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو (انوار ربانی نے) اسے ریزہ ریزہ کردیا ‘‘ اگر اللہ کا علم تمام مخلوقات پر محیط نہ ہوتا اور اللہ ہر جگہ اور ہر مخلوق کے ساتھ (حاضر) ہوتا جیسا کہ فرقہ معطلہ کا یہ عقیدہ ہے تو اللہ کی تجلی ہر چیز پر ہوتی اور زمین پر جو کچھ ہے وہ تجلی انوار ربانی سے ریزہ ریزہ ہوجاتا جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے ۔ اب بتلائیے کہ ان نوری ذرات کے گرنے کے باوجود یہ دنیا و مافیہا کیسے سلامت ہے ؟ ثامناً : یہ عقیدہ مناسخہ کا ہے کہ اس اسٹیج پر ایک وجود فنا ہوجاتا ہے اور دوسرا وجود ظاہر ہوجاتا ہے اورنور کے ذرات سے ہمارا وجود بحال ہے ، یہ تو ہندوؤں کا عقیدہ ہے جسے