کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 61

مولوی صاحب نے انسانیت کی رہنمائی کے لئے پیش کیا ہے۔ قال: ایک ایسی ذات کہ جس سے ہزاروں کی تعداد میں روشنی کے ذرات وجو د عالم پر گر رہے ہوں اسے تسلیم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے وگرنہ اس روشنی کا انکار کرنا پڑے گا ایسی ذات کا نام اللہ ہے ۔(صفحہ 37) اقول : جس روشنی کی آپ بات کررہے ہیں وہ تومخلوق ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ Ǻ۝ . ہمہ اقسام کی تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر اور چیزوں کو اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں ۔ کیا روشنی کو تسلیم کرنا اس بات پر موقوف ہے کہ اس کے ایسے مرکز کو مانا جائے جو بے بنیاد ہو، اور النور تو اللہ تعالی کے اسماء الحسنیٰ میں سے ہے مگر سلف صالحین میں سے کسی نے چشم اگر ایں است، ابرو ایں، ناز و حشوہ ایں چشم اگر ایں است، ابرو ایں، ناز و حشوہ ایں چشم اگر ایں است، ابرو ایں، ناز و حشوہ ایں الفراق اے ہوش و تقویٰ، الوداع اے عقل و دیں قال:ہمارے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے پھر دوسرے وجود ظاہر ہوتے ہیں تو جس طرف روشنی ہوگی یہ مرید کی ایک تجلی ہے (صفحہ 37) قال:ہمارے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے پھر دوسرے وجود ظاہر ہوتے ہیں تو جس طرف روشنی ہوگی یہ مرید کی ایک تجلی ہے (صفحہ 37)

  • فونٹ سائز:

    ب ب