کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 61
مولوی صاحب نے انسانیت کی رہنمائی کے لئے پیش کیا ہے۔ قال: ایک ایسی ذات کہ جس سے ہزاروں کی تعداد میں روشنی کے ذرات وجو د عالم پر گر رہے ہوں اسے تسلیم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے وگرنہ اس روشنی کا انکار کرنا پڑے گا ایسی ذات کا نام اللہ ہے ۔(صفحہ 37) اقول : جس روشنی کی آپ بات کررہے ہیں وہ تومخلوق ہے ۔ ]اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ] ہمہ اقسام کی تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر اور چیزوں کو اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں ۔ کیا روشنی کو تسلیم کرنا اس بات پر موقوف ہے کہ اس کے ایسے مرکز کو مانا جائے جو بے بنیاد ہو، اور النور تو اللہ تعالی کے اسماء الحسنیٰ میں سے ہے مگر سلف صالحین میں سے کسی نے 1۔ بعض یونانی فلاسفروں نے یہ تصور دیا تھا کہ انسان مرنے کے بعد پھر اسی دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں واپس آ جاتا ہے اور آنے جانے کا یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہتا ہے۔ انہی سے یہ تصور ہندوؤں نے مستعار لیا اور ان کے دھرم کا بنیادی جزو بن گیا۔ آواگون اسی عقیدے کا پیدا کردہ چکر ہے اس عقیدے کی رو سے انسان اپنے اعمال کا پھل لینے کے لئے پھر اس دنیا میں آتا ہے کبھی انسان کی شکل میں تو کبھی حیوانات کی صورت میں۔ بدھ مت کی رو سے بھی انسان انہی چکروں میں رہتا ہے جب تک کہ وہ اپنے آپ کو فنا نہ کر دے یعنی اپنی ہستی کو ختم نہ کر ڈالے۔ یہ نروان ان کی زندگی کا منتہی ہے۔ یہ ہے عقیدئہ تناسخ جسے بڑے فخر سے انسانوں کی رہنمائی کے لئے بیان کیا جا رہا ہے۔ اگر مولانا صاحب کا طریق اثبات و استدلال یہی ہے تو پھر شریعت کا خدا حافظ اور علم و عقل کو ہمیشہ کیلئے الوداع۔ چشم اگر ایں است، ابرو ایں، ناز و حشوہ ایں الفراق اے ہوش و تقویٰ، الوداع اے عقل و دیں