کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 62
بھی اس کا یہ معنی ہرگز بیان نہیں کیاکہ اس کے نوری ذرات زمین پر گرت ہیں اس عبارت کے بعد مزید لکھتے ہیں : قال:ہمارے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے پھر دوسرے وجود ظاہر ہوتے ہیں تو جس طرف روشنی ہوگی یہ مرید کی ایک تجلی ہے (صفحہ 37) اقول: اس تجلی سے کیا مراد ہے اور مرید کسے کہہ رہے ہو؟اگر مرید سے مراد اللہ ہے (جیسا کہ صفحہ 38پر لکھا ہے کہ مرید کی تجلی آئی تو دل میں ارادہ آیا) تو پھر اللہ کی تجلی کو کونسی چیز روکنے والی ہے ؟تم خود کہہ رہے ہو کہ ریز (rays)یعنی ذرات اس قدر شفاف ہوتے ہیں کہ ہر چیز شفاف ہوجاتی ہے (صفحہ 32)تو ذرات میں اس قدر طاقت ہے مگر اللہ کی تجلی میں کوئی طاقت اور پاور نہیں ہے ؟ پتہ نہیں کہ کیا کہہ رہے ہو نہ سر ہے نہ پاؤں۔ گھے بر طارم اعلی نشینم گھے بر پشت پائے خود نہ بینم قال: ہم جو کانوں سے سنتے ہیں، ہماری یہ قوت ذاتی نہیں کیونکہ جب وہ وجود کا ڈھانچہ ہی ذاتی نہیں تو طاقت اور صلاحیتیں کس طرح ذاتی ہوسکتی ہیں (صفحہ 37) اقول: یہ انکا مذہب ہے جو عقیدہ حلول کے قائل ہیں یہ لوگ ہر فعل کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ذرا بتلائیے کہ ان صلاحیتوں اور طاقتوں سے ظہور شدہ افعال کے اثرات کو کیا کہیں گے ؟اگر کوئی ظلم کرتا ہے یا کسی سے ناجائز زبردستی کرتا ہے یا زنا بالجبر کا ارتکاب کرتا ہے تو کیا یہ فعل اللہ کا ہوگا؟یہ تو کچھ بھی نہیں ہے آپ کے ایک بزرگ تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ : ایک مؤحد سے لوگوں نے کہا کہ اگر حلوہ و غلیظہ ایک ہیں تو دونوں کو کھاؤ۔ انہوں نے بشکل