کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 63
خنزیر ہوکر گوہ کھالیا ،پھر بصورت آدمی ہوکر حلوہ کھالیا۔ اس کو حفظ مراتب کہتے ہیں۔(شمائم امدادیہ صفحہ 75) اگر کوئی کسی خوبصورت کو اس نیت سے دیکھے کہ اس کا یہ حسن ذاتی نہیں ہے بلکہ یہ حسن تجلی کا اثر ہے تو اس پر کوئی فتوی تو نہیں لگاؤ گے؟ اپنے ایک بزرگ کا فرمان ملاحظہ فرمائیں ، فرماتے ہیں : عورت مظہر مرد کی ہے او رمرد مظہر حق کا ہے ، عورت آئینہ مرد کی ہے اور مرد آئینہ حق، پس عورت مظہر و آئینہ حق تعالی ہے اور اس میں جمال ایزدی ظاہر و نمایاں ہے ، ملاحظہ کرنا چاہیئے۔ یہ وہی باطنی علم ہے جو آپ کو میراث میں ملا ہے کہ جس کے بارے میں صوفی حضرات یہ کہتے ہیں : میان عاشق معشوق رمز یست کراماً کاتبین راھم خبر نیست قال۔ کلیم کی تجلی کا اثر زبان پر پڑا تو بولنے لگی۔ (صفحہ38) اقول۔ کلیم ’’اللہ‘‘ کی صفت نہیں بلکہ موسیٰ علیہ السلام کو ’’کلیم اللہ‘‘ کہا گیا ہے، اور لسان العرب صفحہ 524 جلد 12 میں مذکور ہے کہ کلیمک الذی یکالمک و فی التہذیب الذی تکلمہ و یکلمک یقال تکلیما و کلاما قال۔ جب حکم درخت کو ہو تو درخت بولے : ]اِنِّیْٓ اَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ ۚ اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی ] جب وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ موسیٰ ! میں تو تمہارا پروردگار ہوں، اپنی جوتیاں اتار دو تم یہاں پاک وادی یعنی طویٰ میں کھڑے ہو۔ ]فَلَمَّا جَاۗءَہَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Ď۝یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ Ḍ۝ۙ]