کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 64

جب موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ وہ جو آگ میں (تجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے ارد گرد ہے، اور اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے پاک ہے۔ اے موسیٰ میں ہی اللہ غالب و دانا ہوں۔ فَلَمَّآ اَتٰىهَا نُوْدِيَ مِنْ شَا۸ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يّٰمُـوْسٰٓي اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 30؀ۙ جب اس کے پاس پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت سے آواز آئی کہ موسیٰ میں تو اللہ رب العامین ہوں۔ مولوی صاحب نے جس طرح یہ واقعہ بیان کیا ہے ان الفاظ سے قرآن مجید میں مذکور نہیں ہے۔ فَقَالَ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ 24؀ۙاِنْ هٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ 25؀ۭ . سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ 26؀ فَقَالَ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ 24؀ۙاِنْ هٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ 25؀ۭ . سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ 26؀ پھر کہنے لگا کہ یہ تو جادو ہے جو (اگلے جادوگروں سے) منقول ہوتا آیا ہے، یہ (اللہ کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے، ہم عنقریب اے سقر میں داخل کریں گے۔ کلام الٰہی کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’درخت بولے‘‘ یہ انتہائی غلط ہے۔ کیا درخت اس طرح کہہ سکتا ہے؟ اِنِّیٓ اَنَا اﷲُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ، اَنَا رَبُّکَ، اَنَا اﷲُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ اور ان میں سے جس نے یہ کہا کہ اللہ کے سوا میں بھی معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سا دیا کرتے ہیں۔ وَمَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّىْٓ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ 29؀ۧ  اور ان میں سے جس نے یہ کہا کہ اللہ کے سوا میں بھی معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سا دیا کرتے ہیں۔ وَمَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّىْٓ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ 29؀ۧ 

  • فونٹ سائز:

    ب ب