کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 64
جب موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ وہ جو آگ میں (تجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے ارد گرد ہے، اور اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے پاک ہے۔ اے موسیٰ میں ہی اللہ غالب و دانا ہوں۔ ]فَلَمَّآ اَتٰیہَا نُوْدِیَ مِنْ شَا۸ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَکَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُـوْسٰٓی اِنِّیْٓ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ] جب اس کے پاس پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت سے آواز آئی کہ موسیٰ میں تو اللہ رب العامین ہوں۔ مولوی صاحب نے جس طرح یہ واقعہ بیان کیا ہے ان الفاظ سے قرآن مجید میں مذکور نہیں ہے۔ دوبارہ قرآن کریم کھول کر دیھ لے یا حفاظ کرام سے پوچھ لے۔ جس طرح قرآنی الفاظ میں تحریف کی ہے ویسے ہی معنوی تحریف کا ارتکاب بھی کیا گیا ہے۔ اللہ کے کلام کو مخلوق کا کلام کہنا مسلمانوں کا عقیدہ نہیں بلکہ کفار کا عقیدہ ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: ]فَقَالَ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُ 24؀ۙاِنْ ہٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ 25؀ۭ . سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ ] پھر کہنے لگا کہ یہ تو جادو ہے جو (اگلے جادوگروں سے) منقول ہوتا آیا ہے، یہ (اللہ کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے، ہم عنقریب اے سقر میں داخل کریں گے۔ کلام الٰہی کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’درخت بولے‘‘ یہ انتہائی غلط ہے۔ کیا درخت اس طرح کہہ سکتا ہے؟] اِنِّیٓ اَنَا اﷲُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ، اَنَا رَبُّکَ، اَنَا اﷲُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ]۔