کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 65

اور ان میں سے جس نے یہ کہا کہ اللہ کے سوا میں بھی معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سا دیا کرتے ہیں۔ تو درخت یہ بات کس طرح کہہ سکتا ہے؟ اور تعجب ہے سننے والا موسیٰ علیہ السلام ہے، اگر درخت اس طرح کہتا تو اللہ کا پیغمبر اس پر خاموشی اختیار نہ کرتا۔ کیونکہ جب فرعون نے یہ دعویٰ کیا ’’اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی‘‘ تو موسی علیہ السلام نے اس کا مقابلہ کیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے فرعون کو مع لشکر غرقاب کر دیا۔ وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى 13؀ وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى 13؀ اور میں نے تمہیں منتخب کر لیا ہے۔ تو جو حکم دیا جائے گا اسے سنو۔ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ یہ دو دلیلیں تمہارے رب کی طرف سے ہیں انہیں لے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ۔ کیا یہ کلام بھی درخت کا تھا؟ اور خاکم بدہن، موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نہیں بلکہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب