کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 70
کرنے کے سوا اور کوئی بھی راہ نہیں سوجھے گی۔ قال۔ معنیٰ یہ ہوا کہ اللہ کے سوا ور کوئی بھی نہیں کہ جس کے حضور میں کچھ پیش کرو، اس ذات کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے لا الٰہ الا اللہ کا یہی معنی ہے (صفحہ40) اقول۔ ’’اس کی ذات کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے‘‘ کلمہ طیبہ کا یہ معنیٰ وجودی کرتے ہیں۔ اگر دوسرا کوئی بھی وجود نہیں ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے کسے پیدا کیا ہے اور خالق کس کا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ شرک کی تردید میں جتنی بھی آیتیں ہیں وہ سب لغو اور بے معنی ہیں کیونکہ جب اللہ کے سوا کوئی اور چیز ہے ہی نہیں تو پھر شراکت کس بات کی؟ بلکہ کسی کے شرک کرنے کا کوئی خطرہ بھی نہیں۔ علاوہ ازیں کلمہ طیبہ میں حرف ’’اِلَّا‘‘غیر ے معنی میں ہے۔ دیکھئے الھامیۃ شرح ہدایۃ النحو صفحہ 158۔ اس کا صحیح معنی یہ ہو گا کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی بھی الٰہ نہیں ہے، اور یہ معنی یقینا غلط ہے کہ ’’اللہ کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے‘‘ وجودی حضرات اس طرح معنی کر کے اللہ اور مخلوق کو ایک بناتے ہیں نعوذ باﷲ من ذالک قال۔ یہ مراد جو تسلیم کرائے وہ بڑی شخصیت کہلائے گا اور ہمیں یہ مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کرائی ہے۔ (صفحہ40) اقول۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی مراد سمجھائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ]وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ ] اور ہم نے آپ پر یہ قرآن نازل کیا ہے تاکہ جو ارشادات لوگوں کے لئے نازل ہوئے ہیں وہ انہیں بیان کر دو۔