کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 73

اقول۔ اللہ تعالیٰ کے لئے ایسی مثالیں دینا باطنی علم والوں کا شیوہ ہے، کیا بتلا سکتے ہو کہ اس قیاس میں کونسی مقارنت نظر آ رہی ہے اور کونسی علت مشترکہ سمجھ میں آ رہی ہے؟ قال۔ جس کی نظر اللہ پر نہ پڑی نہ خالق کائنات پر تو اس کی نظر کسی پر نہ پڑی یعنی اس نے کچھ بھی نہ دیکھا (صفحہ41)۔ اقول۔ اس سے مراد حقیقی نظر ہے یا کوئی اور چیز؟ اگر اس سے مراد حقیقی نظر ہے تو دہریئے جو وجودِ باری تعالیٰ کے منکر ہیں انہیں کائنات کی چیزیں کس طرح دکھلائی دے رہی ہیں؟ اور اگر اس سے مراد تمہاری باطنی نظر ہے تو بقول تمہارے یہ بصیرت تو ہر کسی حاصل نہیں ہے تو پھر اسے تمہاری بیان کردہ مثل کس طرح سمجھ آئے گی؟ اور بتلا سکتے ہو کہ معرفتِ الٰہی کا یہ طریقہ کہاں سے آیا ہے؟ وحی الٰہی، قرآن و حدیث میں تو یہ بات مذکور نہیں ہے، شاید شیطانی وحی کے ذریعے یہ بات آئی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق انسان ان آنکھوں سے رب العالمین کا دیدار نہیں کر سکتا۔ تو پھر کیا تمہاری بات سچی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی؟ہمارا تو ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچ ہے اور تم جھوٹے ہو، تمہاری معرفت جھوٹ کی بنیاد پر استوار ہے۔ قال۔ دوست! تو نے کائنات میں سب کچھ دیکھا لیکن خالق کائنات کہ جس نے یہ بتی جلائی ہے، جس نے تجھے روشنی دی ہے، تیری نظر نہ پڑی توتو نے کچھ نہ دیکھا بلکہ تم بیکار ہو (صفحہ42)۔ میں مراقبہ میں تھا، سیدنا جبرئیل و سیدنا میکائیل علیہما السلام کو بغائت جلال ملکانی و نہایت جمال نورانی سنبل کا کل سیاہ کندھوں پر ڈالے ہوئے اور سبزہ اگا ہوا دیکھا میں مراقبہ میں تھا، سیدنا جبرئیل و سیدنا میکائیل علیہما السلام کو بغائت جلال ملکانی و نہایت جمال نورانی سنبل کا کل سیاہ کندھوں پر ڈالے ہوئے اور سبزہ اگا ہوا دیکھا میں مراقبہ میں تھا، سیدنا جبرئیل و سیدنا میکائیل علیہما السلام کو بغائت جلال ملکانی و نہایت جمال نورانی سنبل کا کل سیاہ کندھوں پر ڈالے ہوئے اور سبزہ اگا ہوا دیکھا

  • فونٹ سائز:

    ب ب