کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 75

ایک شخص نے بیان کیا کہ ایک بزرگ کہتے تھے کہ تمام آدمی کیا مشرک ، کیا کافر، کیا مؤمن ،سب کو خدا کی رسائی ہوسکتی ہے اسلام شرط نہیں ہے ارشاد فرمایا کہ یہ بزرگ باوجود کمال کے سیر اسماء میں تھے ، البتہ مرتبہ حقائق میں یہ درست ہے ، کیونکہ مرجع تمامی خلائق اللہ تعالی جل شانہ ہے ۔ قال:’’ اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ‘‘اللہ تعالی ہی ساری کائنات کو اپنے نور سے منور کرنیوالا ہے ۔ نور السموت والارض.منور السموات والارض(ص:42) اقول: ’’اپنے نور سے ‘‘ یہ جملہ کس قرآنی آیت کا ترجمہ ہے ؟کائنات اللہ کے نور سے بنی ہے، یہ تو صوفیاء کا مذہب ہے آ پ نے ضرور ’’سندھی نورنامہ‘‘پڑھا ہوگا جس کا اثر اس تقریر میں بھی نظر آرہا ہے مذکورہ آیت میں نور ہدایت مراد ہے اور یہی معنی سلف صالحین اور مفسرین نے بیان کیا ہے۔ . قال الحلیمی وهو الهادی لا یعلم العباد الا ما علمهم ولا یدرکون الا ما یسرهم ادراکه فالحواس والعقل فطرته و خلقه و عطیته اخبرنا ابو زکریا بن ابی اسحق قال ثنا ابو الحسن الطرایفی قال ثنا عثمان الدارمی قال ثنا عبدالله بن صالح عن معاویة بن صالح عن علی بن ابی طلحة عن ابن عباس رضی الله عنهما قوله ’’اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘ یقول الله سبحانه و تعالی هادی اهل السموت والارض مثل نور مثل هداه من قلب المومن کما یکاد الزیت الصافی یضئی قبل ان تمسه النار فاذا مسته النار ازداد ضوأً علی ضوء کذالك یکون قلب المؤمن یعمل الهدی قبل ان یاتیه العلم فاذا اتاه العلم ازداد هدی علی هدی و نورا علی نور و قال ابو سلیمان فیما اخبر عنه ولا یجوز ان یتوهم ان الله سبحنه و تعالی نور من الانوار فان النور تضاده الظلمة و تعاقبه فتزیله و تعالی الله ان یکون له ضدا و ندا. قال الحلیمی وهو الهادی لا یعلم العباد الا ما علمهم ولا یدرکون الا ما یسرهم ادراکه فالحواس والعقل فطرته و خلقه و عطیته اخبرنا ابو زکریا بن ابی اسحق قال ثنا ابو الحسن الطرایفی قال ثنا عثمان الدارمی قال ثنا عبدالله بن صالح عن معاویة بن صالح عن علی بن ابی طلحة عن ابن عباس رضی الله عنهما قوله ’’اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘ یقول الله سبحانه و تعالی هادی اهل السموت والارض مثل نور مثل هداه من قلب المومن کما یکاد الزیت الصافی یضئی قبل ان تمسه النار فاذا مسته النار ازداد ضوأً علی ضوء کذالك یکون قلب المؤمن یعمل الهدی قبل ان یاتیه العلم فاذا اتاه العلم ازداد هدی علی هدی و نورا علی نور و قال ابو سلیمان فیما اخبر عنه ولا یجوز ان یتوهم ان الله سبحنه و تعالی نور من الانوار فان النور تضاده الظلمة و تعاقبه فتزیله و تعالی الله ان یکون له ضدا و ندا. حلیمی بیان کرتے ہیں کہ وہ (اللہ ) بندوں کو ہدایت دینے والا ہے بندے کچھ بھی نہیں جانتے مگر صرف اتنا کہ جو وہ سکھا دے ، بندے صرف اس چیز کا ادراک حاصل کر سکتے ہیں جو چیز اللہ تعالی ان کے لئے ظاہر کر دے،حس اور عقل اس کی پیدا کردہ مخلوق اور اس کی طرف سے تحفہ ہیں ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کے اس فرمان ’’اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی آسمانوں اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے اسکے نور کی مثال مومن کے دل سے نکلنے والے نور کی طرح ہے گویا کہ صا ف و شفاف تیل ہے کہ جو آگ کے چھونے سے قبل ہی جل پڑے اور اگر آگ چھو جائے تو روشنی میں مزید اضافہ ہوجائے یہی مثال اس دل کی ہے جو علم سے قبل ہی ہدایت پر عمل پیرا ہو اور جب علم آجائے تو ہدایت دو چند ہوجائے ۔نور علی نور کے یہی معنی ہیں ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب