کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 76
فاذا مستہ النار ازداد ضوأً علی ضوء کذالک یکون قلب المؤمن یعمل الہدی قبل ان یاتیہ العلم فاذا اتاہ العلم ازداد ہدی علی ہدی و نورا علی نور و قال ابو سلیمان فیما اخبر عنہ ولا یجوز ان یتوہم ان اللہ سبحنہ و تعالی نور من الانوار فان النور تضادہ الظلمة و تعاقبہ فتزیلہ و تعالی اللہ ان یکون لہ ضدا و ندا. حلیمی بیان کرتے ہیں کہ وہ (اللہ ) بندوں کو ہدایت دینے والا ہے بندے کچھ بھی نہیں جانتے مگر صرف اتنا کہ جو وہ سکھا دے ، بندے صرف اس چیز کا ادراک حاصل کر سکتے ہیں جو چیز اللہ تعالی ان کے لئے ظاہر کر دے،حس اور عقل اس کی پیدا کردہ مخلوق اور اس کی طرف سے تحفہ ہیں ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کے اس فرمان ’’اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی آسمانوں اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے اسکے نور کی مثال مومن کے دل سے نکلنے والے نور کی طرح ہے گویا کہ صا ف و شفاف تیل ہے کہ جو آگ کے چھونے سے قبل ہی جل پڑے اور اگر آگ چھو جائے تو روشنی میں مزید اضافہ ہوجائے یہی مثال اس دل کی ہے جو علم سے قبل ہی ہدایت پر عمل پیرا ہو اور جب علم آجائے تو ہدایت دو چند ہوجائے ۔نور علی نور کے یہی معنی ہیں ۔ ابو سلمان کہتے ہیں کہ مجھے یہ بتلایا گیا کہ اللہ تعالی کے بارے میں یہ خیال رکھنا جائز نہیں ہے کہ وہ روشنیوں میں سے ایک روشنی ہے کیونکہ ظلمت (اندھیرا) نور کی ضد ہے ، نور ظلمت کے بعد آکر اسے زائل کر دیتا ہے ۔ اللہ تعالی تو اضداد اور انداد سے منزہ ہے۔ قال: یورپ سارا اندھا ہے ۔الحمد للہ یہ چیز ہمیں اسلام میں ملتی ہے۔(صفحہ 43) اقول : تم نے تو لوگوں کو اندھا رکھا ہوا ہے ، کہ بجائے قرآن و حدیث کے اپنا باطنی علم اور