کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 78
اقول :مذکور ہ آیت کی تفسیر میں مولانا صاحب نے جو کچھ کہا ہے یہ سلف صالحین کی تفسیر کے خلاف ہے تفسیر ابن کثیر صفحہ 522جلد 3میں اقوال سلف نقل کرنے کے بعد امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : و کل ہذہ الاقوال لاتنافی بینہا بل ہی متفق و راجعة الی انہا التکلیف و قبول الاوامر والنواہی بشرطہا وہو انہ ان قام بذلک اثیب و ان ترکہا عوقب فقبلہا الانسان علی ضعفہ وجہلہ و ظلمہ الا من وفق اللہ و باللہ المستعان. ان تمام چیزون میں منافاۃ نہیں ہے بلکہ یہ باہم متفق ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ ذمہ داری ہے اور اوامر و نواہی کو(تمام شرائط کے ساتھ )قبول کرنے کے لئے ہے ۔ اگر (انسان) ان اوامر و نواہی پر قائم رہے تو ثواب و جزا ہے اور اگر ان کو چھوڑ دے تو عذاب و سزا ہوگی ۔ انسان نے اپنے ضعف اور جہالت کے باوجود انہیں قبول کیا ہاں مگر جس کو اللہ توفیق دے ۔ اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔ مگر مقرر صاحب کی بیان کردہ تفسیر میں کئی مفاسد ہیں کہتے ہیں کہ ہم نے آسمانوں اور زمین پر