کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 78

و کل هذه الاقوال لاتنافی بینها بل هی متفق و راجعة الی انها التکلیف و قبول الاوامر والنواهی بشرطها وهو انه ان قام بذلك اثیب و ان ترکها عوقب فقبلها الانسان علی ضعفه وجهله و ظلمه الا من وفق الله و بالله المستعان. ان تمام چیزون میں منافاۃ نہیں ہے بلکہ یہ باہم متفق ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ ذمہ داری ہے اور اوامر و نواہی کو(تمام شرائط کے ساتھ )قبول کرنے کے لئے ہے ۔ اگر (انسان) ان اوامر و نواہی پر قائم رہے تو ثواب و جزا ہے اور اگر ان کو چھوڑ دے تو عذاب و سزا ہوگی ۔ انسان نے اپنے ضعف اور جہالت کے باوجود انہیں قبول کیا ہاں مگر جس کو اللہ توفیق دے ۔ اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔ مگر مقرر صاحب کی بیان کردہ تفسیر میں کئی مفاسد ہیں کہتے ہیں کہ ہم نے آسمانوں اور زمین پر مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ  مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ 

  • فونٹ سائز:

    ب ب