کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 81

السفینة قرد فکان یشوب الخمر بالماء قال فاخذ القرد الکیس ثم صعد به فوق الدور و فتح الکیس فجعل یاخذ دینارا فیلقیه فی السفینة و دینارا فی البحر حتی جعله نصفین. سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی کشتنی میں کوئی مشروب بیچتا تھا اسی کشتی میں ایک بندر بھی تھا ، وہ آدمی اس مشروب میں پانی ملاتا تھا ۔ایک مرتبہ بندر آدمی سے پیسوں والی تھیلی چھین کر کشتی کے بادبان پر چڑھ گیا اور تھیلی کھول کر ایک دینار کشتی میں اور ایک دینار پانی میں پھینکنا شروع کر دیا اس طرح اس نے پیسوں کو آدھا آدھا تقسیم کردیا۔ تو اللہ تعالی کسی سے کوئی بھی کام لے سکتا ہے۔ خامساً: کہتے ہیں کہ یہ خاموش ہیں کیا اللہ کا حق ادا کرسکتے ہیں ؟ کیا ان پر جو عبادت کا حق رکھا گیا ہے اسے بھی کرتے ہیں ؟ سادساً:فرماتے ہیں کہ انسان نے دیکھا کہ اس میں دو ظرف ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے ’’اِنَّه ُ کَانَ ظَلُوْماً جَهُوْلاً ‘‘ تو پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو ظلوم و جہول پیدا کیا ہے ، حالانکہ صحیح حدیث مین واضح الفاظ ہیں مامن مولود الا یولد علی الفطرة فابواه یهودانه او ینصرانه اویمجسانه(متفق علیہ) ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسکے والدین اسے یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں ۔ ان دونوں ظروف کا قرآن مجید یا حدیث میں کہیں ذکر ہے یاآپ کے باطنی علم میں ہے ص 565ج3بیروت) انه کان ظلوما لکونه تارکا لاداء الا مانة جهولا لا خطائه مایساعده مع تمکنه منه وهو ادائها. هکذا فی الکشاف للزمخشری ص 565ج3بیروت) انه کان ظلوما لکونه تارکا لاداء الا مانة جهولا لا خطائه مایساعده مع تمکنه منه وهو ادائها. هکذا فی الکشاف للزمخشری ص 565ج3بیروت)

  • فونٹ سائز:

    ب ب