کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 83

اگر اللہ تعالی نے انسان کو واقعتاً ظالم پیدا کیا ہے تو پھر اسے امانت کیوں سونپی ؟اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر انسان اس طرح کیسے کر سکتا ہے؟ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ  اور اللہ تعالی کی فطرت کو جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ تاسعاً:فرماتے ہیں کہ جہالت میرے اندر ہے جب میں اللہ کی ذات اور صفات کے بارے میں معلومات حاصل کروں گا تو مجھے عالم کہا جائے گا۔(صفحہ 45) یہ بھی وہی پرانا فلسفہ ، معرفت اور باطنی علم ہے جس کا پہلے بیان گزرا۔ عاشراً:فرماتے ہیں کہ اللہ نے شاباش دی (صفحہ:45) حالانکہ مفسرین نے یہ معنی کیا ہے کہ امانت ادا کی اور عاقبت پر غور بھی کیا ، یہ شاباشی ہے یا تنبیہ؟الغرض ساری آیت کی تفسیر رائے ، تخیل اور سفسطہ سے کی گئی ہے جو اہل علم کے شایان شان نہیں ہے۔ قال :فاطمہ بنت قیس بنو مخزوم کی ایک عورت خاندان قریش کے ایک شریف قبیلے کی عورت تھی یہ غلطی سے چوری کر بیٹھی۔(صفحہ 46-47) اقول:یہ عورت فاطمہ بنت قیس نہیں بلکہ فاطمہ بنت الاسود بن عبدالاسد بنت اخی ابن سلمہ ہے یہ بنو مخزوم اور خاندان قریش کے فھر نامی قبیلے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کاہاتھ کاٹا گیا شاید باطنی علم میں آپکو اسی طرح نظر آیا ہو۔ قال:چاند مہینے میں چودہ ٹکڑے بن جاتا ہے ہم اپنی آنکھوں سے یہ چودہ ٹکڑے دیکھتے ہیں

  • فونٹ سائز:

    ب ب