کتاب: انسان کی عظمت کی حقیقت - صفحہ 84

جڑتے جڑتے کھلتا اور پھر جڑ جاتا ہے(ص49) اقول:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معجزہ دکھایا تھا اس کی وجہ سے لوگوں نے چاند کو دو ٹکڑو ں میں منقسم دیکھا تھا جیسا کہ احادیث میں تفصیل موجود ہے ، اور قرآن مجید میں ہے۔ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ Ǻ۝  قیامت قریب آپہنچی اور چاند ٹکڑے ہوگیا ۔ باقی چودہ ٹکڑے تمہیں ہی نظر آتے ہوں گے۔ قال:محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )ایک دعوی ہے ، ایک بہت بڑا دعوی ۔(صفحہ 50) اقول:غلط بالکل غلط، یہ دعوی نہیں ہے کیونکہ دعوی تو ثبوت کا محتاج ہوتا ہے اوراللہ کا فرمان یا خبر کسی ثبوت کے محتاج نہیں ہیں یہ تو فی نفسہٖ ثبوت ہے یہ باطنی علم ہی ہے جو اللہ کے فرمان کو مخلوق کے کلام کی طرح ثبوت کا محتاج بنارہا ہے ، مقرر صاحب کو سوچنا چاہیئے کہ ثبوت کامحتاج تو مخلوق کا قول ہوتا ہے ، حاکم کا حکم نفس الامر میں تو خود ثبوت ہے اور یہ بات تو ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ اگرمخلوق میں سے کوئی کسی قسم کا دعوی کرے و اس سے کہا جاتا ہے کہ وحی الہی میں سے اس کا ثبوت پیش کرو ۔نہ کہ وحی کے نازل کرنے والے سے ثبوت پیش کرو۔ نہ کہ وحی نازل کرن والے سے ثبوت کا مطالبہ کیاجائے۔ اب اس سے بڑھ کر دہریت اور کیا ہوگی ؟یہ سب تمہاری معرفت کے کرشمے ہیں ۔ قال:حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذرعہ چوری ہوگی (الی قولہ) ذرعہ یہودی کو دے دی گئی ۔(۱) (صفحہ 50-52) یہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک جنگ سے واپسی پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زرع چوری ہوگئی ایک یہودی وہ ذرع بازار میں فروخت کرتاہوا پایا گیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ یہ زرع تو میری ہے میں نے نہ تو اسے بیچا ہے اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی ہے ۔ یہودی نے جواباً کہا کہ یہ ذرع میری ہے میں اسکا مالک ہوں معاملہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب